وائرل تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امتحانی مراکز میں امیدواروں کو سینڈوچز، چاکلیٹس، آئس کریم، چائے، پانی اور دیگر ہلکے پھلکے اسنیکس فراہم کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ سہولت امتحان دینے والے طلبہ کے دباؤ کو کم کرنے اور انہیں بہتر ماحول فراہم کرنے کے مقصد سے دی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر اس اقدام کو بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ امتحانات کے دوران دوستانہ اور آرام دہ ماحول طلبہ کی ذہنی کیفیت پر مثبت اثر ڈالتا ہے، جس سے ان کی توجہ اور کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے۔
د سعودي حکومت له دې وروسته ښوونځیو کې د ازموینو پر مهال زده کوونکو ته چاکلیټ، چای، چپس، سانډویچ او ان ایس کریم ورکړه جبري کړه تر څو پر دوی د ازموینې فشار او وېره نه وي. pic.twitter.com/abLyJgTlrM
— Saeed Shinwari (@Saeed_Shinwarai) June 17, 2026
بعض صارفین نے اس اقدام کو طلبہ کی فلاح و بہبود کے حوالے سے ایک مثبت مثال قرار دیا ہے، جبکہ کئی افراد نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا دیگر ممالک کے تعلیمی اداروں کو بھی امتحانی مراکز میں ایسی سہولیات متعارف کرانی چاہئیں۔
معلمین کے مطابق امتحانات کے دوران مناسب خوراک اور خوشگوار ماحول طلبہ میں اضطراب اور گھبراہٹ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ اپنی صلاحیتوں کا بہتر انداز میں اظہار کر سکتے ہیں۔
سعودی عرب کی یہ منفرد کاوش اب سوشل میڈیا پر ایک دلچسپ بحث کا موضوع بن چکی ہے، جہاں صارفین طلبہ دوست امتحانی نظام کے مختلف پہلوؤں پر اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔







