آج ماسکو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اور روسی صدر پوتن کے درمیان ملاقات ہو رہی ہے، جس کی موجودہ تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔

زیلنسکی نے آئرلینڈ کے وزیراعظم میہول مارٹن کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ اس جنگ کو ختم کرنے کا موقع دے رہے ہیں، مگر کچھ معاملات ایسے ہیں جن پر ابھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے مارٹن کے ساتھ منجمد روسی اثاثوں کے استعمال پر بات کی اور کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ان اثاثوں کو یوکرین کی جنگ اور تعمیر نو کی کوششوں میں استعمال کیا جائے۔ وزیراعظم مارٹن نے بھی اس کی تائید کی۔

میہول مارٹن نے روسی صدر کی بین الاقوامی قوانین سے مکمل بے حسی کی مذمت کی اور کہا کہ روس کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جانا چاہیے۔

مزید برآں، آج یوکرین اور آئرلینڈ کے درمیان ایک شراکت داری معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے، جس کے تحت یوکرین کو 125 ملین یورو  کی اضافی مالی امداد فراہم کی جائے گی۔

زیلنسکی نے کہا کہ امریکہ اور روس کے درمیان آج ہونے والی بات چیت کے بعد پیشرفت کے بارے میں انہیں اطلاع دی جائے گی اور امن عمل کے آئندہ اقدامات اسی پر منحصر ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے کل امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف سے بات کی اور تصفیے کی سب سے بڑی رکاوٹیں علاقہ اور مالی وسائل ہیں، جس میں منجمد روسی اثاثے شامل ہیں۔