اتوار کو جاری بیان میں صدر پرابوو نے کہا کہ انڈونیشیا نے کسی بھی مالی ادائیگی کا کوئی وعدہ نہیں کیا۔ ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ہم ایک ارب ڈالر دیں گے اور اس تاثر کو مسترد کیا کہ جکارتہ اس اقدام کے لیے مالی طور پر پابند ہے۔
بورڈ آف پیس کا قیام امریکا، قطر اور مصر کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کے بعد عمل میں آیا، جس کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔
مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر فیس کی شرط پر تنقید کی جا رہی ہے اور اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرز پر پے ٹو پلے نظام قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر پرابوو کو ملک کے اندر بھی تنقید کا سامنا ہے، خصوصاً مسلم حلقوں کی جانب سے کیونکہ انہوں نے غزہ میں 8 ہزار امن فوجی بھیجنے کا عندیہ دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا امن مشن میں شرکت کے لیے تیار ہے، تاہم کسی بھی تعیناتی کے لیے فلسطینی قیادت، مسلم ممالک اور دیگر متعلقہ فریقین کی منظوری ضروری ہوگی، اگر یہ اقدام فلسطینیوں کے مفاد میں نہ ہوا یا قومی مفادات سے متصادم ہوا تو انڈونیشیا اس سے علیحدگی اختیار کر سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق واشنگٹن کے ساتھ غزہ میں امن مشن سے متعلق بات چیت فی الحال معطل کر دی گئی ہے، جب کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی بھی اس فیصلے کی ایک اہم وجہ ہے۔
صدر پرابوو نے کہا کہ انڈونیشیا کسی بھی بین الاقوامی معاہدے بشمول امریکا کے ساتھ حالیہ تجارتی معاہدے سے دستبردار ہو سکتا ہے اگر وہ قومی مفادات کے خلاف ثابت ہوا۔







