شدید بارش کے باعث یہ لینڈ سلائیڈ پیش آیا، جس نے کئی رہائشی علاقوں کو ملبے تلے دبایا اور درجنوں افراد کو اپنے گھروں سے منتقل ہونے پر مجبور کر دیا۔ مشن کوآرڈینیٹر عادی دِیان پرمانا نے بتایا کہ رات کے وقت سخت موسم کی وجہ سے ریسکیو آپریشن وقتی طور پر معطل رہا، لیکن اتوار کو موسم بہتر ہونے پر دوبارہ شروع کر دیا گیا۔

ریسکیو ٹیمیں فوج، پولیس اور رضاکاروں کی مدد سے متاثرہ علاقوں کی دستی کھدائی کر رہی ہیں، جب کہ ڈرونز اور کینیئن یونٹس بھی لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔ ویسٹ بینڈونگ کے میئر نے خبردار کیا کہ زمین غیر مستحکم ہے اور مشکل حالات کی وجہ سے آپریشن سست ہو رہا ہے۔

36 سالہ مقامی رہائشی دیڈی کورنیووان نے عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ یہ پہلا بڑا لینڈ سلائیڈ ہے جو انہوں نے پاسیر لانگو گاؤں میں دیکھا، جو جکارتہ سے تقریباً 100 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔ کبھی کبھی ہمیں قریبی دریا سے چھوٹے سیلاب آتے ہیں، لیکن اس بار لینڈ سلائیڈ جنگل سے آیا۔

انڈونیشیا میں بارش کے موسم میں اکثر سیلاب اور لینڈ سلائیڈ ہوتے ہیں، جو اکتوبر سے مارچ تک جاری رہتا ہے۔ یہ لینڈ سلائیڈ اس کے دو ماہ بعد آیا ہے جب سمارٹرا جزیرہ پر طوفانی بارشوں اور مون سون کی وجہ سے شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈ نے تقریباً 1,200 افراد کی جانیں لے لیں اور 240,000 سے زائد افراد کو بے گھر کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: سوڈان میں خوا0تین  روایت کے خلاف  مشقت مزدوری کرنے پر مجبور کیوں ہیں؟

ماحولیاتی ماہرین نے اس کی بڑی وجہ جنگلات کی کٹائی قرار دی ہے، جس نے لینڈ سلائیڈ اور سیلاب کو مزید شدید بنایا۔

حکام نے اطلاع دی ہے کہ 23 فوجی بھی لاپتہ افراد میں شامل ہو سکتے ہیں، تاہم اس کی تصدیق ابھی باقی ہے۔ سنٹرل جاوا کے حکام نے امدادی اور بحالی اقدامات کے لیے ہنگامی صورتحال کی مدت 24 جنوری سے 6 فروری تک بڑھا دی ہے۔

تیز بارش کی وجہ سے ویسٹ جاوا اور جکارتہ کے دیگر علاقوں میں بھی سیلاب آیا، جس کے باعث شدید متاثرہ علاقوں کے رہائشی محفوظ جگہوں یا اونچی زمین پر منتقل ہو گئے۔ ریسکیو ٹیمیں مشکل حالات میں زندگی بچانے اور بے گھر خاندانوں کی امداد فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔