انڈین میڈیا کے مطابق سینئر پولیس افسر کے وی مہیشور ریڈی نے کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے نصب آہنی ریلنگ ٹوٹنے سے لوگوں میں افراتفری پھیل گئی اور عقیدت مند ایک دوسرے پر گرنے لگے۔

ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسر سواپنیل دنکر پندکر نے بتایا کہ ابتدا میں سات افراد کی ہلاکت کی اطلاع ملی تھی تاہم اسپتال میں مزید دو زخمی دم توڑ گئے، جب کہ دو افراد کی حالت نازک ہے۔

پندکر کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں آٹھ خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔ زخمی ہونے والے کم از کم 16 افراد کو مقامی اسپتال منتقل کیا گیا، جب کہ 20 دیگر عقیدت مند شدید صدمے کی حالت میں زیرِ علاج ہیں۔

مقامی میڈیا پر نشر ہونے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ بے ہوش ہونے والوں کی مدد کے لیے دوڑ پڑے، کئی افراد زمین پر گرنے والوں کے ہاتھ رگڑ کر ہوش میں لانے کی کوشش کرتے رہے۔

انڈین وزیراعظم نریندر مودی اور آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ این چندرا بابو نائیڈو نے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی ہے۔

وزیراعلیٰ چندرا بابو نائیڈو نے اپنے بیان میں کہا کہ عقیدت مندوں کی جانوں کا ضیاع نہایت افسوسناک ہے، انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ زخمیوں کو فوری اور بہترین علاج فراہم کیا جائے اور امدادی کاموں کی نگرانی یقینی بنائی جائے۔

حکام کے مطابق واقعہ کاشی بگھا کے وینکٹیشورا مندرمیں پیش آیا، جو 12 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور جہاں ہفتے کے روز عام دنوں کی نسبت زیادہ عقیدت مند پہنچتے ہیں۔

یاد رہے کہ چند روز قبل ہی انڈین ریاست تمل ناڈو میں بھی ایک سیاسی جلسے کے دوران بھگدڑ میں 41 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پولیس ذرائع کے مطابق آہنی گرل ٹوٹنے اور عقیدت مندوں کے آگے بڑھنے کی کوشش کے دوران ریلی کی قطار منہدم ہوئی، جس کے نتیجے میں کئی افراد ایک دوسرے پر گر گئے۔

یہ واقعہ اس سال آندھرا پردیش میں پیش آنے والا تیسرا بڑا حادثہ ہے۔اس سے قبل 30 اپریلکو وشاکھاپٹنم کے سری ورہا لکشمی نارسمہا مندر میں دیوار گرنے سے 7 افراد ہلاک اور 6 زخمی ہوئے تھے، جب کہ 8 جنوری کو تروپتی کے مندر میں خصوصی درشن کے ٹکٹ لینے کے دوران مچنے والی بھگدڑ میں 6 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔