یہ فضائی بندش نہ صرف کورونا وبا کی وجہ سے پیدا ہوئی، بلکہ لداخ کے سرحدی علاقوں میں خونی جھڑپوں کے بعد دو طرفہ کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں 20 انڈین فوجی اور چار چینی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
گزشتہ ایک سال میں چین اور انڈیا کے تعلقات میں بہتری کی علامتیں نظر آئی ہیں۔ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کی ملاقاتیں روس کے شہر قازان اور چین میں اگست کے دوران ہو چکی ہیں۔
جون 2025 میں بیجنگ نے ایک اور مثبت قدم اٹھاتے ہوئے انڈین زائرین کو تبت میں کیلاش پربت کی یاترا کی اجازت دی، جو کہ 2020 کے بعد پہلا موقع تھا۔
انڈین حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط کو فروغ دے گا اور تعلقات کو معمول پر لانے میں معاون ثابت ہوگا۔
انڈیا کی معروف ایئرلائن انڈیگو نے اعلان کیا ہے کہ وہ 26 اکتوبر 2025 سے کولکتہ اور گوانگژو کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر براہِ راست پروازیں شروع کرے گی، جسے بعد میں نئی دہلی تک توسیع دی جائے گی۔
ائیر لائن کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ یہ سروس سرحد پار تجارت، کاروباری شراکت داریوں اور سیاحت کو دوبارہ زندہ کرے گی۔
یاد رہے کہ جون 2020 میں لداخ کی گلوان وادی میں ہونے والی خونی جھڑپ کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات تاریخ کی نچلی سطح پر چلے گئے تھے۔اس واقعے کے بعد نہ صرف فوجی مذاکرات طویل عرصے تک جاری رہے، بلکہ دوطرفہ سفری اور تجارتی بندش کا شامنا رہا ہے۔







