عالمی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کے مطابق پریس بریفنگ کے دوران ایک صحافی نے سوال کیا کہ آیا انڈیا نے امریکا اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات پر کسی قسم کی تشویش یا اعتراض ظاہر کیا ہے؟ اس پر مارکو روبیو نے واضح کیا کہ انڈیا کی جانب سے ایسا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان تاریخی تناؤ موجود ہے، اس لیے ان کی فکرمندی سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن امریکا کے لیے ضروری ہے کہ وہ مختلف ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات استوار رکھے۔ امریکا پاکستان کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے کے موقع سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔

مارکو روبیو نے کہا کہ ہم ایسے ممالک کی تلاش میں ہیں، جن کے ساتھ مشترکہ مفادات پر کام کیا جا سکے، یہی ہماری سفارتی پالیسی کا مقصد ہے، جہاں تک سفارتکاری کا تعلق ہے، تو انڈین کافی سجمھدار ہیں۔ دیکھیں، ان کے بھی کچھ ایسے ممالک کے ساتھ تعلقات ہیں جن سے ہمارے تعلقات نہیں ہیں۔ لہذا، یہ ایک میچور عملی خارجہ پالیسی کا حصہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور انڈیا کے تعلقات گہرے، تاریخی اور اہم ہیں اور واشنگٹن جو کچھ بھی پاکستان کے ساتھ کر رہا ہے، وہ انڈیا کے ساتھ دوستی کو متاثر کیے بغیر کر رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں کہ آیا اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات میں حالیہ بہتری کی وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان اور انڈیا کے درمیان ممکنہ جنگ روکنے میں کردار ہے۔

مزید پڑھیں: غزہ میں طاقت کے بل پر امن مسلط کرنے کا کہا گیا تو اردن انکار کر دے گا، شاہ عبداللہ

امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ پاکستان نے امریکا کے اس کردار کو سراہا ہے۔ جب بھی آپ کسی ملک کے ساتھ عملی طور پر کام کرتے ہیں تو اعتماد پیدا ہوتا ہے اور یہی مثبت تعلقات کی بنیاد بنتا ہے۔

مارکو روبیو نے کہا  کہ امریکاکے پاس پاکستان کے ساتھ اپنے اسٹریٹیجک تعلقات کو وسعت دینے کا ایک نیا موقع موجود ہے، مگر یہ تعلقات انڈیا کے ساتھ دوستی کی قیمت پر نہیں بڑھائے جا رہے۔