انڈین میڈیا کے مطابق یہ واقعہ جکھوالی گاؤں میں پیش آیا، جو بنیادی طور پر سکھ آبادی پر مشتمل ہے تاہم یہاں ہندو اور مسلم خاندان بھی آباد ہیں۔ گاؤں میں گوردوارہ اور مندر تو موجود تھا، مگر مسجد نہ ہونے کے باعث مسلم باشندوں کو نماز کے لیے قریبی گاؤں جانا پڑتا تھا۔

زمین عطیہ کرنے والی خاتون بی بی راجندر کور نے بتایا کہ انہوں نے مسلم ہمسایوں کی اس مشکل کو دیکھتے ہوئے تقریباً پانچ مرلے زمین مسجد کے لیے دینے کا فیصلہ کیا۔

ان کے پوتے ستنام سنگھ کے مطابق گاؤں میں سکھ، ہندو اور مسلمان برسوں سے ساتھ رہتے آ رہے ہیں اور ہر مذہبی موقع پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔

انڈین میڈیا کے مطابق یہ زمین بی بی راجندر کور کے نام تھی، جسے قانونی طور پر مسلم کمیٹی کے نام منتقل کر دیا گیا۔ گاؤں کے پنچ اور خاندان کے رکن مونو سنگھ نے کہا کہ سرکاری زمین مذہبی تعمیر کے لیے استعمال نہیں کی جا سکتی تھی، اس لیے ذاتی زمین عطیہ کی گئی۔

مسجد کمیٹی کے صدر کالا خان نے اس اقدام پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ مختلف برادریوں کے درمیان تعلقات مثالی ہیں اور امید ہے کہ مسجد کی تعمیر فروری تک مکمل ہو جائے گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے مسجد کی تعمیر کے لیے چندہ دیا ہے اور اب تک ساڑھے تین لاکھ انڈین روپے جمع ہو چکے ہیں۔