گزشتہ روز روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انڈین وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نیا ای ویزا سسٹم 30 دن کے اندر پروسیس ہوگا اور اس میں کسی قسم کی فیس یا پروسیسنگ چارجز شامل نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ ہم بہت جلد روسی شہریوں کے لیے 30 روزہ مفت ای-ٹورسٹ ویزا اور گروپ ٹورسٹ ویزا سروسز کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔

مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تجارت کو دفاع اور تیل کے شعبوں سے آگے بڑھایا جائے گا، حالانکہ مغربی ممالک مسلسل انڈیا پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ ماسکو کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات محدود کرے۔

دوسری جانب روس نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ برسوں میں انڈیا سے مزید مصنوعات درآمد کرے گا، تاکہ دو طرفہ تجارت کو 2030 تک 100 ارب ڈالر تک لے جایا جا سکے۔ اس وقت تجارتی توازن انڈیا کے خلاف ہے کیونکہ انڈیا روس سے بڑے پیمانے پر توانائی خرید رہا ہے۔

انڈیا اور روس نے جمعہ کے روز دو طرفہ تعلقات مضبوط کرنے کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان کیا، جن میں سب سے اہم روسی شہریوں کے لیے مفت 30 روزہ ای ٹورسٹ ویزا اور گروپ ٹورسٹ ویزا شامل ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان عوامی رابطے، سیاحت اور دوستی کو مزید مضبوط کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینیوں کو ان کی زمین سے بے دخل کرنے کی کسی بھی کوشش کو قطعاً قبول نہیں کیا جائے گا، اسلامی ممالک

خیال رہے کہ انڈیا اس وقت روسی اسلحے اور سمندری راستے سے آنے والے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، جب کہ روسی صدر پیوٹن کا یہ دورہ 2022 میں یوکرین جنگ کے بعد ان کا پہلا دورۂ انڈیا ہے، نئی دہلی نے اس بار پیوٹن کا سرخ قالین بچھا کر استقبال کیا۔

یہ پریس کانفرنس ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے، جب نئی دہلی کی امریکا کے ساتھ بھی تجارتی مذاکرات جاری ہیں، جن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں انڈین مصنوعات پر عائد اضافی ٹیرف کم کرنے پر بات چیت ہو رہی ہے۔