بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی کے قریب واقع اس شہر میں صنعتی دھواں، گاڑیوں کے اخراج اور تعمیراتی سرگرمیوں سے اٹھنے والی گرد نے فضا کو انتہائی مضر بنا دیا ہے، جس کے باعث تقریباً سات لاکھ افراد مسلسل آلودہ ہوا میں سانس لینے پر مجبور ہیں۔

سوئس ادارے آئی کیو ایئر کے اعداد و شمار کے مطابق لونی میں پی ایم 2.5 ذرات کی اوسط سطح 112.5 ریکارڈ کی گئی، جو عالمی ادارہ صحت کی مقررہ حد سے کئی گنا زیادہ ہے۔ یہ باریک ذرات انسانی پھیپھڑوں میں داخل ہو کر خون تک پہنچ سکتے ہیں اور دمہ، دل اور سانس کی بیماریوں سمیت کینسر جیسے امراض کا سبب بن سکتے ہیں۔

مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ آلودگی کی شدت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ معمول کے مطابق سانس لینا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ لوگوں کو باہر نکلتے وقت ماسک کا استعمال کرنا پڑتا ہے جبکہ گھروں کے اندر بھی گرد و غبار جمع ہو جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق انڈیا میں فضائی آلودگی کی بڑی وجوہات میں صنعتی اخراج، ٹریفک کا دباؤ، فصلوں کی باقیات جلانا اور تعمیراتی سرگرمیاں شامل ہیں۔ سردیوں میں مخصوص موسمی حالات آلودگی کو زمین کے قریب روک لیتے ہیں، جس سے اس مسئلے کی شدت مزید بڑھ جاتی ہے۔

رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2025 کے دوران دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں انڈیا اور پاکستان کے متعدد شہر شامل رہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے، جبکہ شہری صاف فضا کے لیے حکومتی اقدامات کے منتظر ہیں۔