انسٹاگرام پر بنائے گئے اکاؤنٹ @cockroachjantaparty نے صرف پانچ دن سے بھی کم وقت میں 16.2 ملین فالوورز حاصل کر لیے، جب کہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ @bjp4india کے فالوورز تقریباً 8.8 ملین ہیں۔

یہ مہم 15 مئی کو اس وقت شروع ہوئی جب سوریا کانت نے ایک عدالتی سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف شعبوں میں داخل ہونے والے بعض نوجوانوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں  کاکروچ  اور  پراسائٹس  قرار دیا۔

چیف جسٹس کے اس تبصرے نے نوجوانوں میں شدید ردعمل پیدا کیا اور اگلے ہی روز  کاکروچ جنتا پارٹی  کے نام سے ایک طنزیہ ڈیجیٹل تحریک کا آغاز کردیا گیا۔

تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ تبصرہ اس لیے زیادہ تکلیف دہ تھا کیونکہ یہ ملک کے چیف جسٹس کی جانب سے آیا، جو آئین اور اظہارِ رائے کی آزادی کے محافظ سمجھے جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جس شخصیت کا کام شہریوں کی آزادیِ اظہار کا تحفظ کرنا ہو، اگر وہی نوجوانوں کا موازنہ کاکروچ اور پراسائٹس سے کرے تو یہ زیادہ دکھ دینے والی بات بن جاتی ہے۔

بعدازاں چیف جسٹس کے دفتر کی جانب سے وضاحت جاری کی گئی کہ ان کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کی تنقید عام نوجوانوں پر نہیں بلکہ جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں داخل ہونے والوں پر تھی۔

تاہم وضاحت کے باوجود سوشل میڈیا پر ردعمل کم نہ ہوسکا۔ صرف 56 پوسٹس کے باوجود  کاکروچ جنتا پارٹی  نے بی جے پی کے اس اکاؤنٹ کو پیچھے چھوڑ دیا جس پر گزشتہ برسوں میں 18 ہزار سے زائد پوسٹس کی جا چکی ہیں۔

مزید پڑھیں: امام بری اور ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کو الگ الگ نظر سے کیوں دیکھا جا رہا ہے؟

رپورٹس کے مطابق اس اکاؤنٹ نے لانچ کے صرف 78 گھنٹوں میں 30 لاکھ فالوورز حاصل کیے، جب کہ پانچ دن سے کم عرصے میں یہ تعداد 16.2 ملین تک پہنچ گئی۔

تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے نے واضح کیا کہ یہ کوئی روایتی سیاسی جماعت نہیں بلکہ نوجوانوں کے جذبات کی نمائندہ ایک علامتی تحریک ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ سیاست دان اس تحریک میں شامل ہوئے تو جین-زی کو یہ ہرگز پسند نہیں آئے گا۔  اگر یہ صرف ایک وقتی سوشل میڈیا ٹرینڈ ہوتا تو دو لاکھ سے زیادہ افراد ویب سائٹ پر اپنی رجسٹریشن نہ کرواتے۔