امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا یکم اکتوبر سے انڈیا سمیت دیگر ممالک سے درآمد کی جانے والی دواسازی کی مصنوعات پر سو فیصد ٹیرف عائد کرے گا۔

یہ اعلان صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کرتے ہوئے کہا کہ امریکا میں دواسازی کی درآمد پر یکم اکتوبر سے سو فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ امریکا میں دواسازی کے پلانٹس لگانے والوں کو اس ٹیرف سے استثنا حاصل ہوگا۔

فارماسیوٹیکل ایکسپورٹ پروموشن کونسل آف انڈیا کے مطابق مالی سال 2025 میں انڈیا کی دواسازی برآمدات کا 35 فیصد حصہ امریکا کو برآمد کیا گیا۔

انڈیا دنیا کے سب سے بڑے دواسازی برآمد کنندگان میں شامل ہے اور امریکا میں استعمال ہونے والی ایک تہائی سے زائد ادویات بھارت سے درآمد کی جاتی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اس اعلان کے ساتھ بھاری ٹرکوں پر پچیس فیصد، گھریلو مرمت کے سامان جیسے کچن کیبنٹس اور باتھ روم وینٹیز پر 50 فیصد جبکہ کپڑے چڑھے فرنیچر پر 30 فیصد ٹیکس لگانے کا بھی اعلان کیا ہے۔

فرانس چوبیس کی رپورٹ کے مطابق یہ ٹیکس ان غیر ملکی کمپنیوں کو متاثر کرے گا جو امریکی مارکیٹ میں مقامی کمپنیوں سے مقابلہ کرتی ہیں۔ ان کمپنیوں میں سویڈن کی والو اور جرمنی کی ڈائملر شامل ہیں جن کے تحت فریٹ لائنر اور ویسٹرن اسٹار جیسے برانڈز بھی آتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے مطابق ان تمام اقدامات کی بنیادی وجہ قومی سلامتی کے مفادات کا تحفظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کئی وجوہات کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے لیکن سب سے اہم قومی سلامتی ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال کے آغاز میں ٹرمپ انتظامیہ نے بھاری ٹرکوں کی درآمدات پر قومی سلامتی سے متعلق اثرات کا جائزہ لینے کے لیے امریکی تجارتی قانون کی دفعہ دو سو بتیس کے تحت تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔

اس قانون کے تحت صدر کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ ایسی درآمدات پر ٹیرف یا دیگر پابندیاں عائد کر سکتے ہیں جو قومی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کی جائیں۔

یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ صدر ٹرمپ نے اس قانون کا استعمال کیا ہو۔ اس سے قبل بھی وہ متعدد بار اس قانون کے تحت امریکی صنعتوں کو تحفظ دینے اور دیگر ممالک پر تجارتی دباؤ بڑھانے کے لیے اقدامات کرتے رہے ہیں۔

ابھی تک انڈیا یا اس کی متعلقہ وزارت تجارت کی جانب سے اس فیصلے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ انڈیا کی برآمدی معیشت خصوصاً دواسازی کے شعبے کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے اور ممکنہ طور پر نئی تجارتی حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہو جائے گا۔