پرہلاد جوشی کون ہیں؟

پرہلاد جوشی 1962 میں انڈین ریاست کرناٹک کے ضلع بیجاپور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کرناٹک یونیورسٹی سے وابستہ کے ایس آرٹس کالج، ہبلی سے بیچلر آف آرٹس کی ڈگری حاصل کی۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے کیمیکل کے کاروبار کا آغاز کیا، تاہم نوجوانی ہی سے سیاست میں دلچسپی رکھتے تھے اور ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے وابستہ ہو گئے، جسے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی نظریاتی تنظیم تصور کیا جاتا ہے۔

سیاسی سفر کیسے شروع ہوا؟

پرہلاد جوشی نے 1990 کی دہائی میں کرناٹک کے ہبلی عیدگاہ میدان تنازع کے دوران عملی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا۔ بعد ازاں 1998 میں وہ بی جے پی کے ضلع دھارواڑ کے صدر بنے، جب کہ 2014 میں انہیں کرناٹک میں پارٹی کا ریاستی صدر مقرر کیا گیا۔

2004 میں وہ پہلی مرتبہ دھارواڑ سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے اور اس کے بعد مسلسل پانچ انتخابات جیت کر لوک سبھا پہنچتے رہے ہیں۔

مودی حکومت میں کیا ذمہ داریاں نبھائیں؟

پرہلاد جوشی کو 2019 میں وزیراعظم نریندر مودی کی کابینہ میں پارلیمانی امور، کوئلہ اور کان کنی کا وزیر بنایا گیا۔

2025 میں انہیں نئی و قابلِ تجدید توانائی اور صارفین کے امور، خوراک و عوامی تقسیم کی وزارتیں دی گئیں، جن کی ذمہ داری وہ نئے عہدے کے ساتھ بھی نبھائیں گے۔

ان کے دور میں حکومت نے کوئلے کی پیداوار بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کیے، تاہم ماحولیاتی کارکنوں نے موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں ان پالیسیوں پر تنقید بھی کی۔

نئے وزیرِ تعلیم کو کن چیلنجز کا سامنا ہوگا؟

پرہلاد جوشی کو ایسے وقت میں وزارتِ تعلیم کا قلمدان ملا ہے جب قومی اہلیت و داخلہ امتحان (نیٹ) کے مبینہ پرچہ لیک ہونے کے بعد لاکھوں طلبہ سراپا احتجاج بن گئے تھے۔

امتحان میں بے ضابطگیوں کے الزامات کے بعد حکومت نے امتحان منسوخ کر کے دوبارہ کرانے کا اعلان کیا، تاہم اس فیصلے سے طلبہ کا غصہ کم نہ ہو سکا اور احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا، جس کے نتیجے میں سابق وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا پڑا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق پرہلاد جوشی کے لیے سب سے بڑا امتحان تعلیمی نظام پر طلبہ کا اعتماد بحال کرنا، امتحانی نظام میں شفافیت لانا اور اصلاحات کو مؤثر انداز میں نافذ کرنا ہوگا۔

پہلا قدم کیا اٹھایا؟

وزارتِ تعلیم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پرہلاد جوشی نے وزیراعظم نریندر مودی کا اعتماد کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ذمہ داری کو عاجزی اور فرض شناسی کے جذبے کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔

اتوار کو انہوں نے بطور وزیرِ تعلیم اپنی پہلی اعلیٰ سطحی میٹنگ بھی کی، جس میں NEET بحران کا جائزہ لینے اور امتحانی نظام میں اصلاحات سے متعلق نئی تجاویز پر غور کیا گیا۔