امریکی دفاعی کمپنی لاکہیڈ مارٹن نے واضح کیا ہے کہ اس وقت نئی دہلی کے ساتھ ایف-35 طیارے کے حوالے سے کوئی براہِ راست یا باضابطہ رابطہ موجود نہیں۔ اس نوعیت کے حساس دفاعی معاملات صرف حکومت سے حکومت کے درمیان طے کیے جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت انڈیا اور امریکا کے جدید ترین جنگی طیارے کے درمیان سیاسی احتیاط، ٹیکنالوجی کی حساسیت اور باہمی عدم اعتماد حائل ہیں۔

خیال رہے کہ یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطہ انڈو پیسیفک میں فوجی مقابلہ تیز ہو رہا ہے، جہاں انڈیا کو ایک جانب چین کی بڑھتی ہوئی فضائی طاقت کا سامنا ہے، تو دوسری جانب پاکستان کی جدید ہوتی فضائی صلاحیتیں بھی چیلنج بن رہی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری 2025 میں ایف-35 کی ممکنہ فروخت کی راہ ہموار کرنے کا عندیہ دیا تھا، تاہم اس کے بعد کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب انڈین حکام بھی اس پیشکش سے محتاط دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ یہ ان کی  آتم نربھر بھارت  (خود انحصار انڈیا) پالیسی سے متصادم ہے، جس کے تحت وہ دفاعی شعبے میں مقامی پیداوار کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایف-35 کا معاملہ اب صرف ایک دفاعی خریداری نہیں بلکہ امریکا اور انڈیا کے درمیان اسٹریٹیجک تعلقات کی حدود اور اعتماد کے فقدان کی علامت بن چکا ہے۔+