برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق انڈیا کے مندروں میں عقیدت مندوں کے خرچ سے سونا اور چاندی چڑھانے کی روایت عام ہے، مگر صدیوں پرانے سبری مالا مندر سے سونا چوری ہونے کی خبر نے عقیدت مندوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

کیرالہ ہائی کورٹ نے معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے۔ پولیس نے تفتیش شروع کر دی اور سابق معاون پجاری اونّی کرشنن پوٹی سمیت تین افراد کو اس الزام میں  گرفتار کر لیا گیا ہے۔

عدالت کے مطابق بتوں سے تقریباً ساڑھے چار  کلوگرام سونا غائب ہے جو 2019 میں دوبارہ ملمع کاری کے دوران نکالا گیا۔ یہ سونا ماضی میں ارب پتی تاجر وجے مالیا کی جانب سے مندر کو عطیہ کیا گیا تھا۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں حیرت کا اظہار کیا کہ بتوں کو مندر سے باہر لے جانے کی اجازت کیوں دی گئی جب کہ ایسی مرمت عموماً اندر ہی کی جاتی ہے۔

مزید انکشاف ہوا کہ مندر کے ریکارڈ میں سونے کی پرت چڑھے اجزا کو ’تانبے کی پلیٹیں‘ ظاہر کیا گیا تھا۔

عدالت نے تراونکور دیوسوم بورڈ کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اس نے پوٹی کو غلط طور پر مرمت کے بعد پانچ سو گرام سونا اپنے پاس رکھنے کی اجازت دی، جو بدعنوانی کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

اونّی کرشنن پوٹی نے مبینہ طور پر ایک ای میل میں اس ’اضافی سونے‘ کو اپنی رشتہ دار کی شادی میں استعمال کرنے کی اجازت مانگی تھی، جسے عدالت نے ’انتہائی پریشان کن‘ اور ’قابلِ مذمت‘ قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ سبری مالا مندر چند برس قبل اس وقت بھی عالمی خبروں میں آیا تھا جب وہاں حیض کے دوران خواتین کے داخلے پر پابندی پر شدید تنازع ہوا تھا، جسے انڈین سپریم کورٹ نے امتیازی سلوک قرار دے کر ختم کیا تھا۔

یاد رہے کہ یہ انڈیا کے مشہور ترین مندروں میں سے ایک ہے جو صدیوں پرانہ ہے۔