لداخ کو ریاستی درجہ دینے اور انڈین آئین کے چھٹے شیڈول میں شامل کرنے کے مطالبے پر شروع ہونے والے احتجاج نے بدھ کے روز پرتشدد رخ اختیار کر لیا، جس کے نتیجے میں کم از کم چار افراد جاں بحق اور ساٹھ سے زائد زخمی ہو گئے۔

حالات بگڑنے پر حکام نے لداخ میں فوری طور پر کرفیو نافذ کر کے ہر قسم کے عوامی اجتماع پر پابندی لگا دی ۔

انڈین نشریاتی ادارے انڈیا ٹو ڈے کے مطابق یہ احتجاج لداخ اپیکس باڈی کے یوتھ ونگ کی جانب سے منظم کیا گیا تھا، جو گزشتہ کئی برسوں سے لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور آئینی تحفظات فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کا آغاز اُس وقت ہوا جب کچھ نوجوانوں نے پتھراؤ شروع کیا۔ جواباً پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور لاٹھی چارج کیا۔ اس دوران مشتعل افراد نے بی جے پی کے مقامی دفتر کو آگ لگا دی، جب کہ ایک سرکاری گاڑی کو بھی نذرِ آتش کیا گیا۔

صورتِ حال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے لداخ میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ انڈین شہری تحفظ قانون 2023 کی دفعہ 163 کے تحت جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ لداخ میں پانچ یا اس سے زائد افراد کے جمع ہونے، کسی بھی قسم کی ریلی، جلوس یا مارچ پر مکمل پابندی ہو گی، جب تک کہ کرفیو نہیں اٹھا لیا جاتا۔


لداخ کو ریاستی درجہ دینے اور انڈین آئین کے چھٹے شیڈول میں شامل کرنے کے مطالبے پر شروع ہونے والے احتجاج نے بدھ کے روز پرتشدد رخ اختیار کر لیا، جس کے نتیجے میں کم از کم چار افراد جاں بحق اور ساٹھ سے زائد زخمی ہو گئے۔

حالات بگڑنے پر حکام نے لداخ میں فوری طور پر کرفیو نافذ کر کے ہر قسم کے عوامی اجتماع پر پابندی لگا دی ۔

انڈین نشریاتی ادارے انڈیا ٹو ڈے کے مطابق یہ احتجاج لداخ اپیکس باڈی کے یوتھ ونگ کی جانب سے منظم کیا گیا تھا، جو گزشتہ کئی برسوں سے لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور آئینی تحفظات فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کا آغاز اُس وقت ہوا جب کچھ نوجوانوں نے پتھراؤ شروع کیا۔ جواباً پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور لاٹھی چارج کیا۔ اس دوران مشتعل افراد نے بی جے پی کے مقامی دفتر کو آگ لگا دی، جب کہ ایک سرکاری گاڑی کو بھی نذرِ آتش کیا گیا۔

صورتِ حال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے لداخ میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ انڈین شہری تحفظ قانون 2023 کی دفعہ 163 کے تحت جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ لداخ میں پانچ یا اس سے زائد افراد کے جمع ہونے، کسی بھی قسم کی ریلی، جلوس یا مارچ پر مکمل پابندی ہو گی، جب تک کہ کرفیو نہیں اٹھا لیا جاتا۔

یاد رہے کہ لداخ کو 2019 میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد جموں و کشمیر سے الگ کر کے براہِ راست مرکز کے زیرِ انتظام یونین ٹیریٹری بنایا گیا تھا۔ اس فیصلے کو ابتدائی طور پر بعض حلقوں نے سراہا تھا لیکن وقت کے ساتھ مقامی سطح پر ریاستی درجہ اور آئینی شناخت کا مطالبہ زور پکڑتا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :ججز ایک دوسرے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں کرسکتے: سپریم کورٹ

دوسری جانب انڈین حکام نے حالات پر قابو پانے کے لیے اضافی سیکیورٹی فورسز تعینات کر دی ہیں اور مختلف حساس علاقوں میں گشت بڑھا دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ نئے تصادم سے بچا جا سکے۔

زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ انڈین انتظامیہ کی جانب سے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور امن و امان برقرار رکھنے میں تعاون کریں۔