انڈین میڈیا کے مطابق واقعہ پَلگھر ضلع کے علاقے ستیوالی کے شری ہنومنت ودیا مندیر ہائی اسکول میں پیش آیا، جہاں چھٹی جماعت کی طالبہ کاجل کو صرف 10 منٹ تاخیر سے اسکول پہنچنے پر ٹیچر نے 100 نشست برخاست کرنے کی سزا دی۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ  کاجل کو یہ سزا اسکول بیگ کے ساتھ دی گئی، جس سے اس کی تکلیف میں مزید اضافہ ہوگیا۔

سزا کے فوراً بعد کاجل کی کمر اور گردن میں شدید درد شروع ہوا۔ گھر پہنچنے کے بعد اس کی حالت مزید بگڑتی گئی اور اسے نالا سوپارہ کے اسپتال منتقل کیا گیا۔ بعدازاں حالت تشویشناک ہونے پر اسے ممبئی کے جے جے اسپتال لے جایا گیا، جہاں وہ دوران علاج چل بسی۔

کاجل کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ “غیر انسانی سزا” نے بچی کی جان لے لی۔ والدہ کے مطابق بیٹی سزا کے بعد چلنے کے قابل نہیں رہی تھی اور شدید درد کے باعث اٹھ بھی نہیں پا رہی تھی۔

واقعہ سامنے آنے پر مقامی والدین سمیت علاقہ مکینوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا ہے۔ مہاراشٹر نونرمن سینا (ایم این ایس) نے اسکول کی بندش کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف فوجداری کارروائی کے بغیر ادارہ دوبارہ نہیں کھلنے دیا جائے گا۔

ایم این ایس رہنما سچن مور کے مطابق کاجل کو اس حالت کے باوجود سزا دی گئی جبکہ اسے پہلے سے کچھ بیماریوں کی شکایت تھی۔

بلاک ایجوکیشن آفیسر پانڈو رنگ گلانگے نے بتایا کہ واقعے کی انکوائری جاری ہے اور موت کی اصل وجہ تفتیش کے بعد سامنے آئے گی۔ تاحال پولیس میں کوئی شکایت درج نہیں کرائی گئی۔

اسکول انتظامیہ کے مطابق 8 نومبر کو تاخیر سے آنے پر پانچ بچوں کو یکساں سزا دی گئی تھی، تاہم ایک خاتون ٹیچر نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ بچی نے کتنے نشست برخاست کیے یا وہ دراصل کس وجہ سے جاں بحق ہوئی۔

کاجل کی موت نے ریاست میں اسکولوں میں جسمانی سزا کے رجحان پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جب کہ والدین، سیاستدانوں اور سماجی حلقوں کی جانب سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔