دھرمیندر پردھان نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں پیدا ہونے والی صورتِ حال اور نوجوانوں کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے اپنا استعفیٰ وزیرِ اعظم نریندر مودی کو بھجوا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ اس معاملے سے  ملک دشمن عناصر  فائدہ اٹھائیں اور ان کی خواہش ہے کہ طلبہ اپنی تعلیم اور مستقبل پر توجہ مرکوز رکھ سکیں۔

پردھان کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا جب نئی دہلی کے جنتر منتر میں ہزاروں طلبہ احتجاج کر رہے تھے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا، جب کہ احتجاجی قیادت کی وفاقی وزرا کے ساتھ مذاکرات کا ایک اور دور بھی متوقع تھا۔

احتجاج کی قیادت کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے وزیرِ تعلیم کے استعفے کو اپنی تحریک کی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ  کاکروچ جیت گئے، جمہوریت جیت گئی۔  تنظیم کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کارکنوں سے خطاب میں کہا کہ ہم نے یہ کر دکھایا۔

خیال رہے کہ تنظیم نے واضح کیا ہے کہ اس کے مطالبات ابھی مکمل طور پر پورے نہیں ہوئے۔ سی جے پی نے امتحانی دباؤ کے باعث خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہلِ خانہ کو ایک کروڑ روپے معاوضہ، احتجاج میں شریک افراد کے خلاف کارروائیاں ختم کرنے اور دہلی پولیس و ریپڈ ایکشن فورس کی جانب سے مبینہ طاقت کے استعمال پر عوامی معافی کا مطالبہ بھی دہرایا ہے۔

یہ احتجاج گزشتہ ماہ قومی سطح کے امتحانات کے مبینہ پرچہ لیک ہونے کے بعد شروع ہوا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے نئی دہلی سے نکل کر ممبئی، بنگلورو، کولکتہ سمیت کئی شہروں تک پھیل گیا۔

پیر کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس کی لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال نے عوامی غم و غصے میں مزید اضافہ کر دیا تھا۔

مودی حکومت نے اس سے قبل امتحانی نظام میں اصلاحات، پرچہ لیک کے مقدمات کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام اور نقل و بدعنوانی کے خلاف سخت قانون سازی کا اعلان کیا تھا، تاہم طلبہ تنظیمیں وزیرِ تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر قائم رہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ احتجاج حالیہ برسوں میں نریندر مودی حکومت کے خلاف نوجوانوں کی سب سے نمایاں عوامی تحریکوں میں شمار کیا جا رہا ہے، جس نے امتحانی شفافیت کے ساتھ ساتھ بے روزگاری، احتساب اور حکومتی کارکردگی جیسے مسائل کو بھی قومی بحث کا حصہ بنا دیا ہے۔