انڈین وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق افغان وزیرِ خارجہ کے حالیہ دورۂ انڈیاکے دوران کیے گئے فیصلوں کے مطابق، حکومت نے کابل میں انڈیاکے تکنیکی مشن کو فوری طور پر افغانستان میں انڈین سفارتخانے کی حیثیت سے بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ یہ اقدام انڈیاکے اس عزم کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعلقات کو مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔

بیان کے مطابق سفارتخانہ افغانستان کی جامع ترقی، انسانی ہمدردی کی امداداور استعداد کار بڑھانے کے منصوبوں میں انڈیاکے کردار کو مزید فروغ دے گا، جو افغان عوام کی ترجیحات اور امنگوں کے مطابق ہوگا۔

واضح رہے کہ 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے اور امریکی قیادت میں نیٹو افواج کے انخلا کے بعد انڈیانے کابل میں اپنا سفارتخانہ بند کر دیا تھا۔ تاہم ایک سال بعد تجارت، طبی امداد اور انسانی بنیادوں پر تعاون کے لیے ایک محدود تکنیکی مشن دوبارہ کھولا گیا تھا۔

دوسری جانب چین، روس، ایران، پاکستان اور ترکیہ سمیت متعدد ممالک کے سفارتخانے اس وقت کابل میں سرگرم ہیں، البتہ روس واحد ملک ہے جس نے تاحال طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔

یاد رہے کہ انڈین وزیرِ خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے رواں ماہ کے آغاز میں طالبان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کے دوران سفارتخانے کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔ یہ 2021 کے بعد کسی طالبان رہنما کا پہلا انڈیا کا دورہ تھا۔

واضح رہے کہ  نئی دہلی نے تاحال طالبان حکومت کو باضابطہ تسلیم نہیں کیا، تاہم دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان رابطے اور مذاکرات میں تیزی کے باعث تعلقات میں نمایاں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔