انڈین میڈیا کے مطابق روسی صدر پیوٹن تقریباً 30 گھنٹے انڈیا میں قیام کریں گے۔ امریکا اور انڈیا کے درمیان تجارتی معاہدے کی ناکامی کے بعد روسی صدر کا یہ دورہ غیر معمولی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ دورے کے دوران دفاع سمیت متعدد اہم معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں، جس پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
#WATCH | Russian President Vladimir Putin and Prime Minister Narendra Modi share a hug as PM Modi receives President Putin, at the Palam Technical Airport in Delhi
— ANI (@ANI) December 4, 2025
President Putin is on a two-day State visit to India. He will hold the 23rd India-Russia Annual Summit with PM… pic.twitter.com/foA1S8hGqO
انڈین حکومتی ذرائع کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔پیوٹن اپنے ساتھ روسی کاروباری شخصیات کا ایک بڑا وفد بھی لائے ہیں، جب کہ انڈیا کو توقع ہے کہ یہ دورہ دوطرفہ تجارت کے عدم توازن کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
ذرائع کے مطابق روس کو انڈین برآمدات میں اضافہ کرنے کے لیے مختلف شعبوں میں نئے مواقع تلاش کیے جا رہے ہیں، جن میں فارماسیوٹیکل، آٹوموٹو، زرعی مصنوعات اور دیگر تجارتی اشیا شامل ہیں۔






