انڈین میڈیا کے مطابق روسی صدر پیوٹن تقریباً 30 گھنٹے انڈیا میں قیام کریں گے۔ امریکا اور انڈیا کے درمیان تجارتی معاہدے کی ناکامی کے بعد روسی صدر کا یہ دورہ غیر معمولی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ دورے کے دوران دفاع سمیت متعدد اہم معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں، جس پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

انڈین حکومتی ذرائع کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔پیوٹن اپنے ساتھ روسی کاروباری شخصیات کا ایک بڑا وفد بھی لائے ہیں، جب کہ انڈیا کو توقع ہے کہ یہ دورہ دوطرفہ تجارت کے عدم توازن کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

ذرائع کے مطابق روس کو انڈین  برآمدات میں اضافہ کرنے کے لیے مختلف شعبوں میں نئے مواقع تلاش کیے جا رہے ہیں، جن میں فارماسیوٹیکل، آٹوموٹو، زرعی مصنوعات اور دیگر تجارتی اشیا شامل ہیں۔