انڈین میڈیا کے مطابق یہ حادثہ تمبرم ایئر فورس اسٹیشن کے قریب اس وقت پیش آیا جب تربیتی پروگرام میں استعمال ہونے والا اہم تربیتی طیارہ اچانک تکنیکی خرابی کا شکار ہوا۔
انڈین فضائیہ نے اس حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر ٹوئٹ کرتے ہوئے بتایا کہ انڈین فضائیہ کا تربیتی طیارہ PC-7 Pilatus معمول تربیتی مشن کے دوران حادثے کا شکار ہوا ہے جو آج تقریباً انڈین وقت کے مطابق 2 بج کر 25 منٹ پے تمبرم ایئربیس سے اڑان بھر کر کچھ ہی دیر بعد چنئی کے جنوب میں تروپورور کے ایک ویران صنعتی علاقے کے قریب گر کر تباہ ہو گیا ہے۔
پائلٹ اس حادثے میں محفوظ ہے اور شہری املاک کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، جب کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے کورٹ آف انکوائری تشکیل دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ PC-7 Pilatus ایک معمول کی تربیتی پرواز پر تھا، جسے انڈین فضائیہ اپنے کیڈٹس کی ابتدائی فلائٹ ٹریننگ کے لیے استعمال کرتی ہے۔ حادثے کے بعد انڈین ائیر فورس نے ضابطے کے مطابق کورٹ آف انکوائری قائم کر دی ہے جو حادثے کی اصل وجہ کا تعین کرے گی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعہ تکنیکی خرابی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ سوئس ساختہ یہ بنیادی تربیتی طیارہ انڈین فضائیہ کے بنیادی تربیتی پروگرام کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔ پائلٹس کو جیٹ فائٹرز، ملٹی انجن طیاروں اور ہیلی کاپٹرز کی تربیت سے قبل اسی ماڈل پر ابتدائی پروازیں کرائی جاتی ہیں۔
اس کا جدید ورژن PC-7 MKX واحد ٹرینر ہے جو مارٹن بیکر ایجیکشن سیٹس اور پراٹ اینڈ وٹنی کینیڈا کے طاقتور انجن سے لیس ہے۔ Pilatus کمپنی کے مطابق یہ طیارہ اپنی بہترین ہینڈلنگ اور محفوظ آپریشن کے لیے دنیا بھر میں مقبول ہے۔
انڈیا کے علاوہ آسٹریا، فرانس اور ہالینڈ سمیت کئی ممالک بھی Pilatus طیارے چلاتے ہیں۔
یہ واقعہ اس سال رپورٹ ہونے والے حادثات کے سلسلے کا تازہ ترین واقعہ ہے۔ جولائی میں انڈین فضائیہ کا ایک جیگوار لڑاکا طیارہ تربیتی مشق کے دوران راجستھان کے چورو ضلع میں گر کر تباہ ہوا تھا جس میں دو پائلٹ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 30 سال میں انڈین فضائیہ کو 550 سے زائد فضائی حادثات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں 150 سے زیادہ پائلٹس جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق انڈین ایوی ایشن کے یہ مسلسل حادثات فضائی آپریشنز میں موجود کمزوریوں، غیرمعیاری تربیت اور ایس او پیز پر عمل درآمد کی خلاف ورزیوں کو نمایاں کرتے ہیں۔







