عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب کچھ اسرائیلی رہنماؤں اور صدر نے حالیہ دنوں میں فلسطینیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے حملوں کی مذمت کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق انتہا پسند یہودی آبادکاروں نے مسجد کی ایک دیوار، قرآنِ مجید کے تین نسخے اور مسجد کے قالین کے حصوں کو آگ لگا دی۔ دیواروں پر عبرانی زبان میں جملے لکھے جیسے ہم ڈرنے والے نہیں، ہم دوبارہ بدلہ لیں گے اور آپ مذمت کرتے رہیں۔ ان تحریروں کو مٹایا جانا بھی مشکل بتایا جا رہا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ جائے وقوعہ پر فورسز کو تحقیقات کے لیے بھیج دیا گیا ہے، تاہم ابھی تک کسی مشتبہ شخص کی شناخت نہیں ہو سکی۔ فوج کے مطابق کیس کو پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

مسجد پر حملے کے بعد اعلیٰ اسرائیلی حکام، فوجی قیادت اور امریکی حکومت کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے پریس کانفرنس میں کہا کہ مغربی کنارے میں بعض واقعات باعثِ تشویش ہیں، جن کے اثرات غزہ میں امن کی کوششوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام یہودی آبادکاروں کے تشدد کو چند انتہا پسند عناصر کا نام دیتے ہیں، مگر فلسطینیوں اور انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ یہ تشدد وسیع پیمانے پر ہے اور مقبوضہ علاقے میں آبادکار مسلسل اس میں ملوث ہیں۔

 ناقدین کے مطابق یہ آبادکار اسرائیل کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت کے تحفظ کے باعث خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے تاحال ان واقعات پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

گزشتہ منگل کو بھی درجنوں نقاب پوش آبادکاروں نے بیت لِد اور دیر شراف کے فلسطینی دیہاتوں میں گاڑیوں اور املاک کو نذرِ آتش کیا تھا، جس کے بعد اسرائیلی صدر اور فوجی حکام نے مذمتی بیانات جاری کیے تھے۔ اسرائیلی صدر نے ان حملوں کو سرخ لکیر عبور کرنے کے مترادف قرار دیا تھا۔

جمعرات کو ایک پریس بریفنگ کے دوران تشدد سے متعلق سوال پر اسرائیلی حکومت کے ترجمان شوش بیدروسیان نے کہا کہ فوج کسی ایسی صورتحال کو قبول نہیں کرے گی جس میں قانون شکن عناصر املاک یا شہریوں کو نقصان پہنچائیں۔