عالمی خبررساں ادارے کے مطابق سنگاپور کے پرچم بردار کنٹینر بردار جہاز جی ایف ایس پرائیڈ کی گنجائش 2 ہزار 824 ٹی ای یو تھی، جو حملے کی زد میں آنے کے بعد ڈوب گیا۔ پاکستان کے ہائیڈروگرافر کی جانب سے 14 اکتوبر کو جاری بحری انتباہ میں بتایا گیا کہ جہاز ڈوب چکا ہے، جب کہ اس کے کنٹینرز سمندر میں تیر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ جہاز کی متحدہ عرب امارات میں قائم انتظامی کمپنی سے فوری طور پر رابطہ نہیں ہوسکا۔
اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے اعداد و شمار کے مطابق 28 فروری کو امریکا اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد یہ ڈوبنے والا دوسرا جہاز ہے۔
دوسری جانب انٹیگوا و باربوڈا کے پرچم بردار خشک مال بردار جہاز کیپ ڈاؤ کے بھی آبنائے ہرمز کے قریب ڈوبنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مذکورہ جہاز کو 23 ستمبر کو ہونے والے حملے میں نقصان پہنچا تھا۔
برطانوی بحری خطرات سے متعلق ادارے وینگارڈ کے مطابق جہاز کو بچانے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد اس کے ڈوبنے کی اطلاع ملی۔
ادھر ایرانی حکام کے مطابق ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے نئی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس حکمت عملی کا مقصد تیل کی قیمتوں کو بلند رکھنا اور امریکا کے وسط مدتی انتخابات پر اثرانداز ہونا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور دیگر توانائی کی مصنوعات کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ حالیہ واقعات کے بعد خطے میں بحری جہازوں کی سلامتی اور عالمی توانائی کی ترسیل سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔







