ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں یوم القدس کی آمد سے قبل اور رمضان جنگ کے شہدا، بالخصوص پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور کی یاد میں کی گئیں۔

بیان کے مطابق ان حملوں میں کلسٹر وار ہیڈ سے لیس 10 سے زائد خرمشہر اور قدر میزائل، ایک ٹن وزنی وارہیڈ والے خیبر شکن میزائل، فتاح ہائپرسونک میزائل اور حملہ آور ڈرونز استعمال کیے گئے۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق احمد الجابر ایئر بیس، کویت میں موجود امریکی فوجیوں کو ہائپرسونک فتاح میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

اسی طرح الظفرہ ایئر بیس، متحدہ عرب امارات میں امریکی میرینز کی رہائش گاہ، عراق میں امریکی اڈوں اور تل ابیب میں اسرائیلی فوجی اہداف کو کلسٹر وارہیڈ والے خرمشہر اور قدر میزائلوں کے ساتھ ساتھ ایک ٹن وارہیڈ والے خیبر شکن میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔

پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ متحدہ عرب امارات اور عراق میں امریکی اہم تنصیبات کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

مزید پڑھیں: ایران نے مطالبات نہ مانے تو نئے سپریم لیڈر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، ٹرمپ کی سخت دھمکی

اپنی ویب سائٹ سپاہ نیوز پر جاری بیان میں پاسدارانِ انقلاب نے مزید کہا کہ شیخ زاید روڈ، دبئی پر امریکی افواج کے زیر استعمال ایک اہم مقام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ الظفرہ ایئر بیس پر امریکی میرینز کی رہائش گاہ اور عراق میں امریکی متحرک اڈوں کو بھی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بجلی کے نظام کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو پورا خطہ اندھیرے میں ڈوب جائے گا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ہم ایک گھنٹے میں ایران کے بجلی کے انفرااسٹرکچر  کو تباہ کر سکتے ہیں مگر ہم نے ایسا نہیں کیا‘۔

علی لاریجانی نے کہا کہ اگر امریکا ایسا کرتا ہے تو آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میں پورا خطہ تاریکی میں ڈوب جائے گا اور یہ صورتحال امریکی فوجیوں کے لیے محفوظ پناہ کی تلاش کے دوران خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔