انڈین فوج اکتوبر کے پہلے ہفتے میں تینوں مسلح افواج کی مشترکہ مشق ’کولڈ اسٹارٹ‘ کرے گی، جس میں ڈرونز اور کاؤنٹر ڈرون سسٹمز کے عملی تجربات شامل ہوں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مشق ممکنہ طور پر مدھیہ پردیش میں ہونے کا امکان ہے۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اس مشق کا مقصد فضائی دفاعی صلاحیتوں کی افادیت اور خامیوں کا جائزہ لینا اور بدلتے ہوئے خطرات کے مقابلے میں عملی تیاری کو تقویت دینا ہے۔

انڈیا کا ’کولڈ اسٹارٹ‘ مخصوص وقت میں مربوط اور تیز جوابی کارروائیاں کرنے کی حکمتِ عملی پر مبنی ہے تاکہ محدود اہداف کو طے شدہ اہداف کے تحت حاصل کیا جا سکے۔

سرکاری سطح پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران کاؤنٹر ڈرون اور جی پی ایس جیمنگ سسٹمز نے موثر کارکردگی دکھائی تھی، تاہم فوجی عہدے دار یہ بھی کہتے ہیں کہ دشمن نے ان صلاحیتوں کا اندازہ لگا لیا ہے اور آئندہ بہتر تیاری کی ضرورت ہے۔

مشق میں دفاعی صنعت، تحقیق و ترقی کے ادارے، جامعات اور دیگر اسٹیک ہولڈرز بھی شریک ہوں گے۔

ماہرین خبردار کر چکے ہیں کہ ’کولڈ اسٹارٹ‘ طرزِ عمل میں تنازع کے جوہری سطح تک پہنچنے کے خطرات بھی موجود ہیں، خاص طور پر اس تناظر میں کہ پڑوسی ملک کے پاس ٹیکٹیکل جوہری صلاحیتیں ہیں۔

انڈین چیف آف انٹیگریٹڈ ڈیفنس اسٹاف ایئر مارشل اشوتوش ڈکشٹ نے کہا ہے کہ مستقبل میں مربوط دفاعی نظام کی ضرورت ہے جو ڈرونز، یو اے ویز اور ہائپر سونک خطرات کا مقابلہ کر سکے اور امن و جنگ دونوں حالات میں قابلِ استعمال ہو۔