عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہے کہ امریکا میں من مانی اور غیرقانونی گرفتاریوں اور حراست کے واقعات پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

وولکر ترک کا کہنا تھا کہ افراد کی نگرانی کی جا رہی ہے اور انہیں حراست میں لیا جا رہا ہے، بعض اوقات پرتشدد انداز میں، جن میں اسپتال، گرجا گھر، مساجد، عدالتیں، مارکیٹس، اسکول اور حتیٰ کہ لوگوں کے اپنے گھروں کے اندر کارروائیاں شامل ہیں، جب کہ اکثر افراد کو محض غیر دستاویزی تارکِ وطن ہونے کے شبہے پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن کریک ڈاؤن پالیسی کے تحت منی ایپولس شہر میں تقریباً 3 ہزار بھاری اسلحے سے لیس، نقاب پوش وفاقی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جو مبینہ طور پر خطرناک مجرمانہ امیگریشن خلاف ورزیوں میں ملوث افراد کو گرفتار کر رہے ہیں، تاہم ان کارروائیوں کے دوران قانون کی پابندی کرنے والے امریکی شہری اور قانونی تارکینِ وطن بھی زد میں آ رہے ہیں۔

شہر میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب 7 جنوری کو ایک امیگریشن افسر نے 37 سالہ رینی گُڈ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا، جو ایک امریکی شہری اور تین بچوں کی ماں تھیں۔

اس واقعے کے بعد نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک بیان میں حالاتِ حاضرہ کا ذمہ دار مبینہ طور پر “انتہا پسند بائیں بازو کے مظاہرین” اور مقامی حکام کے عدم تعاون کو قرار دیا۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے کہا کہ امریکی امیگریشن کارروائیوں میں غیر ضروری یا غیر متناسب طاقت کے استعمال کے شواہد سامنے آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طاقت کا استعمال صرف اسی صورت میں آخری حل ہونا چاہیے جب کسی فرد سے فوری طور پر جان کو خطرہ لاحق ہو۔

وولکر ترک نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکا بین الاقوامی قانون کی پابندی کرے اور امیگریشن نفاذ کے تمام اقدامات میں قانونی عمل (ڈیو پراسیس) کا احترام کیا جائے۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ بعض معاملات میں گرفتار یا زیرِ حراست افراد کو بروقت قانونی مشاورت تک رسائی نہیں دی گئی۔

انہوں نے امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی تحویل میں ہونے والی اموات کی بڑھتی ہوئی تعداد کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا، اور بتایا کہ 2025 میں 30 اموات رپورٹ ہوئیں، جب کہ رواں سال اب تک 6 اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے امریکا میں تارکینِ وطن اور پناہ گزینوں کے خلاف معمول کی تضحیک اور منفی بیانیے کی بھی مذمت کی، جس میں انہیں مجرم یا معاشرے پر بوجھ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔  ایسے بیانات تارکینِ وطن کو نسلی تعصب، نفرت اور بدسلوکی کے خطرات سے دوچار کر دیتے ہیں۔