غزہ میں جاری اسرائیلی فضائی اور زمینی کارروائیوں سے بڑی آبادی متاثر ہے، جبکہ اقوامِ متحدہ نے کئی علاقوں میں قحط کی باضابطہ تصدیق کی ہے، جہاں درجنوں افراد بھوک اور غذائی قلت کے باعث جان گنوا چکے ہیں۔

فلیچر کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے فوراً بعد روزانہ سینکڑوں ٹرک غزہ میں داخل ہوں گے تاکہ خوراک اور ادویات پہنچا کر قحط اور بھوک کے بحران کو کم کیا جا سکے۔ منصوبے کے تحت 21 لاکھ افراد کو خوراک، پانچ لاکھ بچوں اور شدید غذائی قلت کے شکار افراد کو خصوصی غذائی امداد، اور دو لاکھ افراد کو نقد رقم فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنی ضروریات کے مطابق اشیا خرید سکیں۔

اسی منصوبے کے تحت 14 لاکھ افراد کو صاف پانی، نکاسیٔ آب اور صفائی کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اقوامِ متحدہ پانی کی فراہمی کے نظام کی بحالی، سیوریج لائنوں کی مرمت، کچرا صاف کرنے اور حفظانِ صحت کی اشیاء جیسے صابن، شیمپو اور سینیٹری پیڈز کی فراہمی بھی یقینی بنائے گا۔

فلیچر نے مزید بتایا کہ غزہ کے تباہ حال صحت کے نظام کی بحالی بھی منصوبے کا حصہ ہے، جس میں ہنگامی طبی امداد، زچگی اور نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال، نفسیاتی علاج اور بنیادی طبی سہولیات شامل ہوں گی۔

اقوامِ متحدہ ہر ہفتے ہزاروں خیمے غزہ میں بھیجے گا اور تقریباً سات لاکھ بچوں کے لیے عارضی اسکول قائم کرے گا۔ فلیچر کے مطابق منصوبے کی کامیابی کے لیے چند شرائط لازمی ہیں، جن میں ہفتہ وار کم از کم 19 لاکھ لیٹر فیول کی فراہمی، کھانا پکانے والی گیس کی ترسیل، متعدد امدادی راستوں کی دستیابی اور قافلوں کی سیکیورٹی کی ضمانتیں شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ فی الحال چار ارب ڈالر کے ہنگامی فنڈ کا صرف 28 فیصد حاصل ہو سکا ہے، جو موجودہ ضرورت کے مقابلے میں ناکافی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے پاس اس وقت 1 لاکھ 70 ہزار ٹن امدادی سامان اسرائیل، اردن، مصر اور قبرص میں محفوظ ہے، تاہم فلیچر کے مطابق یہ جنگ بندی کے بعد کے ابتدائی 60 دنوں کے لیے بھی کافی نہیں ہوگا۔