رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی افواج نے جان بوجھ کر ایسے حملے کیے جن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں فلسطینی بچے شہید ہوئے یا شدید جسمانی اور ذہنی صدمات کا شکار ہوئے۔ کمیشن کے مطابق یہ سلسلہ گزشتہ برس ہونے والی جنگ بندی کے بعد بھی جاری رہا۔
تحقیقاتی کمیشن کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ کارروائیاں ایک منظم حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے مستقبل کو ان کے بچوں کو نشانہ بنا کر کمزور کرنا ہے۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے 2021 میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور اسرائیل میں مبینہ بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن قائم کیا تھا۔ یہ تین رکنی ماہرین پر مشتمل کمیشن ہے، تاہم یہ باضابطہ طور پر اقوامِ متحدہ کی نمائندگی نہیں کرتا۔
رپورٹ کے مطابق غزہ میں فلسطینی بچوں کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا، جس میں اہم اعضا پر فائرنگ، کواڈ کاپٹر ڈرونز اور سنائپرز کا استعمال، جبکہ رہائشی عمارتوں، اسکولوں اور بے گھر افراد کے کیمپوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملے شامل ہیں، جہاں بڑی تعداد میں بچے موجود تھے۔
کمیشن نے کہا کہ اسرائیل مغربی کنارے میں بھی فلسطینی بچوں کو اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کے حملوں سے محفوظ رکھنے میں ناکام رہا، حالانکہ بین الاقوامی قانون کے تحت یہ ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ غزہ اور مغربی کنارے میں بچوں، خصوصاً نوعمر لڑکوں کو گرفتار کرنے، تشدد اور بدسلوکی کا نشانہ بنانے کے واقعات سامنے آئے ہیں، جب کہ حراست کے دوران جنسی اور صنفی بنیاد پر تشدد کے شواہد بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
کمیشن کے مطابق غزہ میں نوزائیدہ اور بچوں کے اسپتالوں پر حملوں نے بچوں کی جان بچانے والی طبی سہولیات کو منظم انداز میں تباہ کر دیا، جس سے ان کی بقا شدید خطرے میں پڑ گئی۔
رپورٹ میں اسرائیل پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ اس نے بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ انسانی امداد کی فراہمی پر پابندیوں کے باعث بچوں میں شدید غذائی قلت پیدا ہوئی، جس سے ان کی بقا کے بنیادی حالات متاثر ہوئے۔
اس کے علاوہ اسکولوں پر حملوں، بڑے پیمانے پر بے دخلی اور تعلیمی اداروں کی بندش کے ذریعے فلسطینی بچوں کی تعلیم کو بھی منظم انداز میں متاثر کیا گیا، جس سے فلسطینی معاشرے کی فکری اور سماجی بنیادیں کمزور ہو رہی ہیں۔
کمیشن کے سربراہ، انڈین قانون دان سرینیواسن مرلی دھر نے کہا کہ اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد بھی فلسطینی بچوں کی ہلاکتیں اور شدید زخمی ہونے کے واقعات جاری ہیں، جب کہ اسرائیل جنگ بندی اور بین الاقوامی قانون کے تحت بچوں کو حاصل تحفظ کو نظر انداز کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی بچوں کا تحفظ، نگہداشت اور بقا، فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت سے الگ نہیں۔ بچوں کو نشانہ بنا کر اسرائیل دراصل فلسطینی قوم کی بقا اور ان کے مستقبل کے تعین کی صلاحیت پر حملہ کر رہا ہے۔
رپورٹ میں یاد دلایا گیا کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس اور دیگر فلسطینی مسلح گروہوں نے جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا تھا، جس میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اس کے بعد سے اب تک 73 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔
کمیشن نے اس سے قبل بھی یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس اور دیگر فلسطینی مسلح گروہوں نے جنگی جرائم اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں کیں، جب کہ اسرائیلی افواج نے غزہ میں انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔
گزشتہ ستمبر میں بھی کمیشن نے اسرائیل پر غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ 1948 کے نسل کشی کنونشن میں بیان کردہ پانچ میں سے چار اقدامات کے ارتکاب کے معقول شواہد موجود ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل نے تمام الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے رپورٹ کو بے بنیاد، جانبدار اور پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔
اسرائیلی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی کمیشن ایک بنیادی طور پر ناقص نظام ہے، جس کا مقصد حقائق تلاش کرنے کے بجائے اسرائیل کو نشانہ بنانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ رپورٹ اسرائیلی بچوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرتی ہے، جنہیں حماس نے قتل کیا، اغوا کیا اور نشانہ بنایا، جب کہ فلسطینی بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے معاملے کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔
Israeli authorities and security forces have deliberately targeted Palestinian children, resulting in genocide, crimes against humanity and war crimes in Gaza, and war crimes in the occupied West Bank, an independent UN inquiry says. pic.twitter.com/71bEdmGvSD
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) June 23, 2026
اسرائیل نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کمیشن کے پاس اپنے الزامات کی تصدیق کے لیے کوئی قابلِ اعتماد طریقۂ کار موجود نہیں۔
اسرائیلی حکومت مسلسل اس مؤقف پر قائم ہے کہ غزہ میں اس کی فوجی کارروائیاں اپنے دفاع، حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خاتمے اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کی جا رہی ہیں، جب کہ اسرائیلی افواج بین الاقوامی قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے شہریوں کو نقصان سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہیں۔
دوسری جانب یہ معاملہ اس وقت بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں بھی زیرِ سماعت ہے، جہاں جنوبی افریقہ کی جانب سے دائر مقدمے میں اسرائیل پر نسل کشی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ تاہم اس مقدمے کے حتمی فیصلے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ اسرائیل نے اس مقدمے کو بھی بے بنیاد، متعصب اور جھوٹے دعوؤں پر مبنی قرار دیا ہے۔
گزشتہ اکتوبر میں اسرائیل اور حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ جنگ بندی منصوبے کے تحت جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، تاہم اس کے بعد دونوں فریق ایک دوسرے پر متعدد بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد بھی ایک ہزار 20 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 265 بچے شامل ہیں، جب کہ اسرائیلی فوج کے مطابق اس دوران اس کے چار اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔







