لائیو

ایران کو ہتھیاروں کی رسد روکنے کے لیے امریکی سینٹ کام کا ’ٹاسک فورس آئرن گیٹ‘ قائم کرنے کا فیصلہ؛ 'یہ فورس حاصل ہونے والی رقوم پر بھی نظر رکھےگی'

ایران کو ہتھیاروں کی رسد روکنے کے لیے امریکی سینٹ کام کا ’ٹاسک فورس آئرن گیٹ‘ قائم کرنے کا فیصلہ؛ 'یہ فورس حاصل ہونے والی رقوم پر بھی نظر رکھےگی'7 نومبر، 2026

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایران کو ہتھیاروں اور دیگر سامان کی رسد روکنے کے لیے خصوصی ٹاسک فورس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کے فیصلے کے تحت قائم کی جانے والی اس فورس کو ’ٹاسک فورس آئرن گیٹ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کا مرکز امریکی ریاست فلوریڈا میں ہوگا اور یہ امریکی حکومت کے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ سینٹ کام کے مطابق ٹاسک فورس کا بنیادی مقصد زمینی راستوں اور بحیرہ کیسپین کے ذریعے ایران تک ہتھیاروں اور دیگر سامان کی ترسیل روکنا ہے۔

  • فورس ہتھیاروں کی نقل و حرکت کے علاوہ عسکری ٹیکنالوجی کی منتقلی اور غیر قانونی ذرائع سے حاصل ہونے والی رقوم پر بھی نظر رکھے گی۔

  • برطانوی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ کے مطابق روس اور ایران کے درمیان جدید فضائی دفاعی نظام ایس 400 کی فراہمی کے لیے مذاکرات جاری ہیں اور تہران کو امید ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اس معاہدے کی منظوری دے دیں گے۔

  • اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی کو خصوصی پیغام کے ساتھ ماسکو بھیجا تھا، جس میں ایس 400 نظام کی فراہمی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ محسن رضائی نے 5 نومبر کو کریملن میں صدر پیوٹن سے ملاقات کی۔

تازہ اپڈیٹس

  1. ایران کو روسی ایس 400 میزائل دفاعی نظام ملنے کا امکان، معاہدے پر بات چیت جاری: برطانوی اخبار

    برطانوی اخبار ’دی ٹیلی گراف‘ کے مطابق روس اور ایران کے درمیان جدید فضائی دفاعی نظام ایس 400 کی فراہمی کے لیے مذاکرات جاری ہیں اور تہران کو امید ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اس معاہدے کی منظوری دے دیں گے۔

    رپورٹ کے مطابق ملاقات میں روس اور ایران کے درمیان نئی گیس پائپ لائن کی تعمیر پر بھی بات چیت ہوئی۔ تاہم دونوں ممالک کی جانب سے ایس 400 کی خریداری کے کسی حتمی معاہدے یا فراہمی کے شیڈول کا اعلان نہیں کیا گیا۔

    اخبار نے روسی دفاعی صنعت کی خفیہ دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ روسی ادارے ایران کے لیے ہیلی کاپٹروں سے داغے جانے والے ’ایل ایم یو آر‘ گائیڈڈ میزائلوں کے خصوصی لانچرز تیار کرنے کے معاہدے پر کام کر رہے تھے۔

    دستاویزات کے مطابق ایران کے لیے 90 لانچرز کی تیاری اور فراہمی کا منصوبہ تھا، تاہم ان دستاویزات سے یہ تصدیق نہیں ہوتی کہ یہ سامان ایران پہنچا بھی یا نہیں۔

مزید خبریں