نجی اخبار ڈان کے مطابق RLabs ایک پاکستانی اسٹارٹ اپ ہے جو نیشنل انکیوبیشن سینٹر فار ایرو اسپیس ٹیکنالوجیز میں قائم ہے اور حارث احمد کی سربراہی میں کام کر رہا ہے۔ اسٹارٹ اپ نے سمٹ میں ’گول اسٹارٹ اپ ایوارڈ‘ اپنے نام کیا۔ 2 سے 5 نومبر تک جاری رہنے والی اس تقریب کا انعقاد انوویشن پلیٹ فارم اور وینچر کیپیٹل فرم پلگ اینڈ پلے نے کیا تھا۔

RLabs ان 18 اسٹارٹ اپس میں شامل تھا جنہیں پلگ اینڈ پلے کے گلوبل اوورسیز ایکسلریشن اینڈ لرننگ پروگرام کے تحت سمٹ میں اپنے آئیڈیاز پیش کرنے کا موقع ملا۔

حارث احمد نے اپنے لنکڈ اِن اکاؤنٹ پر ایوارڈ کے ساتھ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ انہیں توسیع شدہ حقیقت سمیلیٹرز، مصنوعی ڈیٹا اور مشین ٹریننگ پر اپنے کام کو ایسے پلیٹ فارم پر پیش کرنے کا موقع ملا، جہاں بانیوں، وینچر کیپیٹلسٹس، کارپوریٹ ایگزیکٹوز، اختراعی رہنماؤں اور حکومتی شراکت داروں سمیت 3 ہزار سے زائد افراد شریک تھے۔

اپنے پروفائل کے مطابق، نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) سے 2018 میں گریجویشن کرنے والے حارث احمد نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ دہائی انسانوں کو توسیع شدہ حقیقت میں پیچیدہ مشینیں چلانے کی تربیت دینے میں گزاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب وہ مشینی صلاحیتوں اور جبلتوں کی تربیت کے لیے اسی انسانی تجربے کو استعمال کر رہے ہیں۔

حارث احمد نے بتایا کہ سمٹ کا محور مصنوعی ذہانت اور ڈیپ ٹیک تھا، جہاں 20 سے زائد صنعتی پروگراموں میں 300 سے زیادہ اسٹارٹ اپس نے براہ راست مظاہرے کیے اور اپنے منصوبے پیش کیے۔

نیشنل انکیوبیشن سینٹر فار ایرو اسپیس ٹیکنالوجیز کے مطابق، RLabs ایک ملکیتی بڑے لینگویج ماڈل کو تربیت دے رہا تھا، جو ایک ماڈیولر اور کراس پلیٹ فارم سمولیشن انجن کو طاقت فراہم کرتا ہے اور ترقی کے وقت میں 75 فیصد تک کمی لاتا ہے۔

ایک بیان میں جو حکومت کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر بھی شیئر کیا گیا، وزیر مملکت برائے آئی ٹی شازہ فاطمہ خواجہ نے لکھا کہ ’پاکستان سے سلیکون ویلی تک، ہماری قوم کے لیے ایک قابل فخر لمحہ‘

انہوں نے اس کامیابی کو اپنی وزارت اور ٹیکنالوجی انوویشن کے شعبے ’اگنائٹ‘ کے لیے انتہائی فخر کا لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستانی ٹیلنٹ کی غیر معمولی صلاحیت اور ملک کے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کی بڑھتی ہوئی طاقت کی عکاسی کرتا ہے۔

">


وزیر نے کہا کہ پاکستانی اسٹارٹ اپس کی بین الاقوامی سطح پر پذیرائی جدت طرازی کو فروغ دینے، عالمی مواقع پیدا کرنے اور پاکستانی کاروباری افراد کی اگلی نسل کو بااختیار بنانے کے حکومتی عزم کو مزید تقویت دیتی ہے۔

انہوں نے حکومتی وژن کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی اسٹارٹ اپس کو نہ صرف عالمی سطح پر مقابلہ کرنا چاہیے بلکہ ٹیکنالوجی کے مستقبل کی تشکیل میں بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ حارث احمد اور RLabs کی پوری ٹیم کو پاکستان کا نام روشن کرنے پر مبارکباد پیش کی جاتی ہے اور امید ظاہر کی جاتی ہے کہ یہ کامیابی مستقبل میں مزید کامیابیوں کا آغاز ثابت ہوگی۔

10 اکتوبر کو وزیراعظم شہباز شریف نے ’دانش آئی ٹی پارک‘ (نیشنل ٹیکنالوجی پارک) کا باضابطہ افتتاح کیا تھا۔ انہوں نے ملک کی پہلی قومی ٹیکنالوجی سہولت کو پاکستان کی تیز رفتار معاشی ترقی اور خوشحالی کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا تھا۔

وزیراعظم نے نشاندہی کی تھی کہ یہ جدید سہولت انکیوبیشن سینٹرز، انوویشن ہبز، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں، اسٹارٹ اپس اور صنعت کے رہنماؤں کو ایک ہی چھت تلے اکٹھا کرتی ہے۔

ورلڈ بینک اپنے ’پاکستان انٹرپرینیورشپ اینڈ پرائیویٹ انویسٹمنٹ کیٹالسٹ پروجیکٹ‘ کے تحت حکومت کو 50 ملین ڈالر کا ’فنڈ آف فنڈز‘ قائم کرنے اور اس کے لیے سرمایہ فراہم کرنے میں مدد دے گا۔ اس منصوبے کی منظوری 2027 کے اوائل میں ورلڈ بینک کے ایگزیکٹو بورڈ سے متوقع ہے، جس کا مقصد پاکستان میں جدت طرازی اور وینچر کیپیٹل کے ابتدائی مرحلے کے ایکو سسٹم کو فروغ دینا ہے۔

اس سال کے اوائل میں سنگاپور میں قائم ’پلوٹن اے آئی‘ کے شریک بانیوں نے ’فوربز 30 انڈر 30 ایشیا‘ کی فہرست میں فنانس اینڈ وینچر کیپیٹل کے شعبے میں جگہ بنائی تھی۔

محمد فرقان کریم قدوائی اور سرفراز شاہد حسین کی جانب سے قائم کردہ اس وینچر کو ایک ’ایجنٹک آٹومیشن پلیٹ فارم‘ قرار دیا گیا ہے، جو درمیانے درجے کی کمپنیوں کو مالیاتی امور سے متعلق ورک فلو خودکار بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔