غیرملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق انتونیو گوتریس کی یہ اپیل جمعے کے روز سامنے آئی، جو سوڈان کے وزیرِاعظم کامل ادریس کی جانب سے سلامتی کونسل میں پیش کیے گئے امن منصوبے کے بعد کی گئی۔ اس منصوبے میں نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، تاہم آر ایس ایف نے اسے “خیالی سوچ” قرار دے کر مسترد کر دیا۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ کے نتیجے میں 96 لاکھ افراد ملک کے اندر بے گھر ہو چکے ہیں، جب کہ 43 لاکھ افراد پڑوسی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ اس کے علاوہ 3 کروڑ 4 لاکھ سے زائد سوڈانی شہریوں کو انسانی امداد کی فوری ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل محمد خالد خیاری نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ خشک موسم کے دوران لڑائی میں شدت کے خدشات درست ثابت ہو رہے ہیں۔ ہر گزرتا دن تشدد اور تباہی کی نئی مثالیں لے کر آ رہا ہے اور عام شہری ناقابلِ تصور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں جھڑپوں کا مرکز سوڈان کے وسطی کردوفان کا علاقہ بن گیا ہے، جہاں آر ایس ایف نے 8 دسمبر کو اسٹریٹجک ہیگلیگ آئل فیلڈ پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد جنوبی سوڈان کی افواج نے تنصیبات کے تحفظ کے لیے سوڈان میں داخل ہو کر صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔

ادھر آر ایس ایف نے شمالی دارفور میں مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے بھی کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور 24 دسمبر سے چاڈ کی سرحد کے قریب دار زغاوہ کے قصبوں پر حملے کیے جا رہے ہیں، جس سے شہریوں کے لیے چاڈ فرار ہونے کا آخری راستہ بھی بند ہونے کا خدشہ ہے۔

تشدد کا دائرہ سرحد پار بھی پھیل گیا، جہاں جمعے کو چاڈ کے سرحدی شہر ٹینے میں ڈرون حملے کے نتیجے میں دو فوجی ہلاک ہو گئے۔ چاڈ کی فوجی انٹیلی جنس کے مطابق ڈرون سوڈان کی جانب سے آیا، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملہ کس فریق نے کیا۔ اس واقعے کے بعد چاڈ نے اپنی فضائیہ کو ہائی الرٹ کر دیا اور جوابی کارروائی کی وارننگ دی ہے۔

اس تمام صورتحال کے باوجود اقوام متحدہ نے ایک اہم پیش رفت کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت پہلی بار آر ایس ایف کے قبضے کے بعد الفاشر میں جائزہ مشن بھیجا گیا۔

اقوام متحدہ کی انسانی امور کی رابطہ کار ڈینس براؤن کے مطابق شدید لڑائی، محاصرے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث الفاشر اور اطراف سے لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ رواں ماہ ییل یونیورسٹی کی ایک رپورٹ میں الفاشر میں آر ایس ایف کی جانب سے منظم اجتماعی قتل عام کے شواہد بھی سامنے آئے تھے۔

دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے گزشتہ ہفتے جنگ کو “خوفناک اور ہولناک” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایک دن سوڈان میں ہونے والے مظالم کی پوری حقیقت دنیا کے سامنے آئے گی۔

سوڈان کے وزیرِاعظم کامل ادریس نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں فوری جنگ بندی اور آر ایس ایف کے زیرِ قبضہ علاقوں سے انخلا کی تجویز دی تھی، تاہم آر ایس ایف قیادت نے اسے حقیقت سے بعید قرار دیا۔ واپس پورٹ سوڈان پہنچنے پر وزیراعظم نے واضح کیا کہ حکومت ماضی کے تجربات کے باعث کسی بھی بین الاقوامی امن فوج کو قبول نہیں کرے گی۔

واضح رہے کہ سوڈان میں جنگ اپریل 2023 میں سوڈانی فوج اور آر ایس ایف کے درمیان اقتدار کی کشمکش کے باعث شروع ہوئی تھی، جوتاحال جاری ہے۔