ڈینی ڈینن نے جمعرات کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اقوامِ متحدہ نے “حقائق اور زمینی حقیقت سے ہٹ کر سیاسی فیصلہ” کیا ہے۔

انہوں نے کہا، “یہ اخلاقی بدنامی اور اقوامِ متحدہ کی باقی ماندہ ساکھ کا مکمل خاتمہ ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے ان الزامات کو مسترد کرنے کے لیے شواہد بھی جمع کرائے تھے۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی پرزن سروس اُن اداروں میں شامل ہے جنہیں 2026 کی بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے گا، جبکہ دیگر اسرائیلی ادارے بھی ممکنہ شمولیت کے لیے اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں ہیں۔

یہ بلیک لسٹ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی سالانہ رپورٹ کا حصہ ہوتی ہے، جس میں ان ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کی نشاندہی کی جاتی ہے جن پر مسلح تنازعات کے دوران ریپ اور دیگر جنسی تشدد کے منظم واقعات میں ملوث ہونے کا شبہ ہو۔

یہ رپورٹ عموماً اگست میں جاری کی جاتی ہے اور فہرست میں شامل فریق کم از کم ایک سال تک اس میں برقرار رہتے ہیں۔ 2025 کی رپورٹ میں حماس بھی شامل ہے۔

یہ فیصلہ اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد اسرائیلی حراستی مراکز میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی پر بڑھتی عالمی توجہ کے بعد سامنے آیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں، سابق قیدیوں اور بین الاقوامی تحقیقاتی اداروں نے اسرائیلی جیلوں اور فوجی حراستی مراکز میں تشدد، غیر انسانی سلوک، جنسی زیادتی اور ریپ کے الزامات دستاویزی شکل میں پیش کیے ہیں۔

رہا ہونے والے کئی فلسطینی قیدیوں نے دورانِ حراست مبینہ جنسی تشدد اور تفتیش کے دوران بدسلوکی کے دعوے بھی کیے ہیں۔

گزشتہ سال اقوامِ متحدہ کی ایک تحقیقات میں اسرائیل پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ “جنسی تشدد اور ریپ کو جنگی ہتھیار کے طور پر” استعمال کر رہا ہے تاکہ “فلسطینی عوام کو دبایا، کنٹرول کیا اور تباہ کیا جا سکے۔”

اسرائیلی انسانی حقوق تنظیم بی تسلیم نے بھی اسرائیلی جیل نظام کو “تشدد کے کیمپوں کا نیٹ ورک” قرار دیا تھا، جہاں قیدیوں پر بار بار جنسی تشدد کیے جانے کے الزامات عائد کیے گئے۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس فیصلے کے بعد اسرائیل نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے دفتر کے ساتھ تعلقات منجمد کر دیے ہیں۔