عالمی خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق ڈک چینی امریکی ریاست وائیومنگ سے کانگریس کے رکن اور وزیر دفاع بھی رہ چکے تھے۔ وہ ایک تجربہ کار اور بااثر ریپبلکن رہنما تھے، اسی وجہ سے جب جارج ڈبلیو بش نے 2000 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لیا تو انہیں اپنا ساتھی امیدوار (رننگ میٹ) بنایااور کامیابی کے بعد چینی 2001 سے 2009 تک نائب صدر کے عہدے پر فائز رہے۔

انہوں نے اپنے دور میں امریکی صدر کے اختیارات کو بڑھانے کی بھرپور کوشش کی۔ ان کا ماننا تھا کہ واٹرگیٹ اسکینڈل کے بعد صدر کے اختیارات کمزور ہو گئے تھے، اسی وجہ سے انہوں نے ایک طاقتور قومی سلامتی کی ٹیم تشکیل دی، جس نے اکثر خود کو انتظامیہ کے اندر ایک الگ فیصلہ ساز قوت کے طور پر منوایا۔

ڈک چینی کو عراق جنگ کے سب سے بڑے منصوبہ سازوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ اُن نمایاں اہلکاروں میں شامل تھے جنہوں نے عراق کے مبینہ تباہ کن ہتھیاروں کے حوالے سے خطرناک دعوے کیے تھے، جن کی بنیاد پر 2003 میں عراق پر حملہ کیا گیا۔ لیکن بعد میں ایسے کوئی ہتھیار نہیں ملے۔

چینی نے اُس وقت کے وزیرِ خارجہ کولن پاول اور کونڈولیزا رائس سمیت کئی اعلیٰ عہدیداروں سے اختلافات کیے۔ انہوں نے دہشت گردی کے مشتبہ افراد سے تفتیش کے لیے سخت اور متنازعہ طریقوں جیسے پانی میں ڈبونا (واٹر بورڈنگ) اور نیند سے محرومی جیسی سزاؤں کا دفاع کیا۔ 

ان کی بیٹی لز چینی بھی امریکی سیاست میں سرگرم رہیں اور ایوان نمائندگان کی رکن منتخب ہوئیں۔ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف سخت مؤقف اپنایا اور 2021 میں امریکی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد ٹرمپ کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا، جس پر انہیں پارٹی حمایت سے محروم ہونا پڑا۔

ڈک چینی نے بھی اپنی بیٹی کے مؤقف کی حمایت کی اور اعلان کیا کہ وہ آئندہ الیکشن میں ڈیموکریٹ امیدوار کاملا ہیرس کو ووٹ دیں گے۔

دل کی بیماری ان کی زندگی کے بیشتر حصے کا حصہ رہی۔ صرف 37 سال کی عمر میں انہیں پہلا دل کا دورہ پڑااور 2012 میں ان کا دل کا ٹرانسپلانٹ کیا گیا۔

ڈک چینی اور اُس وقت کے وزیرِ دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ مارچ 2003 میں عراق پر حملے کے سب سے مؤثر حامیوں میں تھے۔ چینی کا کہنا تھا کہ عراق کے ممکنہ طور پر القاعدہ سے تعلقات ہیں اور وہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں میں ملوث ہوسکتا ہے۔ لیکن بعد میں تحقیقاتی کمیشن نے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا۔

انہوں نے پیش گوئی کی تھی کہ عراق میں امریکی فوجیوں کا خیرمقدم آزادی دلانے والے کے طور پر کیا جائے گا اور جنگ صرف چند ہفتے جاری رہے گی، مگر حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ جنگ کئی سال جاری رہی اور ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں۔

اگرچہ تباہی پھیلانے والے کوئی ہتھیار نہ مل سکے، چینی آخر تک اپنے مؤقف پر قائم رہے کہ اُس وقت دستیاب معلومات کی بنیاد پر حملہ درست تھا اور صدام حسین کو ہٹانا ضروری تھا۔

ڈک چینی نے 1991 کی پہلی خلیجی جنگ کے دوران صدر جارج ایچ ڈبلیو بش کے وزیر دفاع کی حیثیت سے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔

اُس وقت انہوں نے صدام حسین کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا، مگر عراق پر براہِ راست حملے کی مخالفت کی، کیونکہ ان کے مطابق وہ جنگ امریکا کے لیے طویل دلدل بن سکتی تھی۔

جب جارج ڈبلیو بش نے 2000 میں نائب صدر کے امیدوار کی تلاش کے لیے کمیٹی بنائی، تو انہوں نے چینی کو اس کی سربراہی دی، مگر بعد میں خود انہیں ہی نائب صدر کے لیے بہترین امیدوار چنا۔

سیاست میں واپسی پر چینی کو تیل کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی ہیلیبرٹن سے 35 ملین ڈالرز کا ریٹائرمنٹ پیکج ملا، جس کے وہ 1995 سے 2000 تک سربراہ رہے۔ عراق جنگ کے دوران یہی کمپنی امریکی حکومت کے بڑے ٹھیکوں کی وصول کنندہ بن گئی، جس کی وجہ سے چینی پر مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات لگتے رہے۔

ڈک چینی امریکی سیاست کے اُن متنازع لیکن بااثر رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے واشنگٹن کے طاقت کے نظام پر گہرا اثر چھوڑا۔