عراقی حکومت کے ترجمان نے پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک میں مسلح گروہوں کو ریاستی عملداری کے دائرے میں لانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عراق کے نئے وزیر اعظم علی زیدی کے متوقع دورۂ امریکا سے قبل واشنگٹن کی جانب سے بغداد پر ایران نواز مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے کے لیے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔
🔴 BREAKING: Iraq’s government has given pro-Iran armed groups in the country until September 30 to disarm, its spokesman says. pic.twitter.com/HjdFmqavTI
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) June 29, 2026
رپورٹس کے مطابق عراقی وزیر اعظم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سرکاری دعوت پر آئندہ دو ہفتوں کے دوران امریکا کا دورہ کریں گے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
عراقی حکام کے مطابق حالیہ ایران امریکا کشیدگی اور جنگ کے دوران ایران کے قریبی بعض مسلح گروہوں، جو خود کو مزاحمت کا محور قرار دیتے ہیں، نے عراق میں امریکی مفادات اور تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔
عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں ریاستی رٹ کو مضبوط بنانے اور داخلی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تمام مسلح دھڑوں کو سرکاری سیکیورٹی ڈھانچے کے تابع لانا ضروری ہے۔







