عراقی حکومت کے ترجمان نے پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک میں مسلح گروہوں کو ریاستی عملداری کے دائرے میں لانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عراق کے نئے وزیر اعظم علی زیدی کے متوقع دورۂ امریکا سے قبل واشنگٹن کی جانب سے بغداد پر ایران نواز مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے کے لیے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق عراقی وزیر اعظم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سرکاری دعوت پر آئندہ دو ہفتوں کے دوران امریکا کا دورہ کریں گے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

عراقی حکام کے مطابق حالیہ ایران امریکا کشیدگی اور جنگ کے دوران ایران کے قریبی بعض مسلح گروہوں، جو خود کو مزاحمت کا محور قرار دیتے ہیں، نے عراق میں امریکی مفادات اور تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔

عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں ریاستی رٹ کو مضبوط بنانے اور داخلی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تمام مسلح دھڑوں کو سرکاری سیکیورٹی ڈھانچے کے تابع لانا ضروری ہے۔