عرب میڈیا کے مطابق سعدون القیسی صدام حسین کے دورِ حکومت میں میجر جنرل کے عہدے پر فائز رہے اور انہیں گزشتہ سال گرفتار کیا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق سعدون القیسی انسانیت سوز جرائم میں ملوث پائے گئے تھے۔ ان پر الزام تھا کہ وہ 1980 میں ممتاز عراقی عالم محمد باقر الصدر اور ان کی بہن بنت الہدیٰ کے قتل میں ملوث تھے۔
Iraq’s National Security Service on Monday announced carrying out the death penalty against Saadoun Sabri al-Qaisi, after completing the legal procedures
— The New Region (@thenewregion) February 9, 2026
The Baathist security official was convicted of the 1980 murder of Shiite cleric Muhammad Baqir al-Sadr, and his sister,… pic.twitter.com/ed7rMacXsE
اس کے علاوہ سعدون القیسی پر دیگر عام شہریوں کے قتل میں ملوث ہونے کے بھی الزامات تھے۔
عرب میڈیا کے مطابق عراقی حکام کا کہنا ہے کہ میجر جنرل سعدون القیسی کو منصفانہ عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد پیر کے روز پھانسی دی گئی۔
رپورٹس کے مطابق سعدون القیسی 2003 میں صدام حسین حکومت کے خاتمے کے بعد شام فرار ہو گئے تھے۔ بعد ازاں فروری 2023 میں وہ عراق کے شہر اربیل پہنچے، جہاں سے انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
سعدون القیسی صدام حسین کے دور میں کئی اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے، جن میں ریاستی سلامتی کے ڈائریکٹر کے علاوہ ساحلی شہر بصرہ اور نجف میں ڈائریکٹر سیکیورٹی کے عہدے بھی شامل ہیں۔






