اردن کے بادشاہ کا پاکستان کا آخری دورہ سابق صدر ممنون حسین کی دعوت پر ہوا تھا۔ اُس دورے میں دونوں ممالک کے درمیان دو اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے تھے، جن میں ایک شہری تحفظ اور دفاع کے شعبے میں تعاون جبکہ دوسری رہائش (ہاؤسنگ) کے شعبے میں شراکت سے متعلق تھی۔
دفترِ خارجہ کے مطابق شاہ عبداللہ دوم کا یہ دورہ اسلام آباد اور عمان کے درمیان موجود ’برادرانہ اور دیرینہ‘ تعلقات کا تسلسل ہے، جو سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی میدانوں میں دونوں ممالک کی شراکت داری کو مزید مضبوط بنائے گا۔ اس دورے کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر جامع گفتگو ہوگی۔
ایوانِ صدر میں شاہ عبداللہ دوم کے اعزاز میں ایک خصوصی تقریب بھی منعقد کی جائے گی، جس میں انہیں پاکستان کا اعلیٰ ترین شہری اعزاز پیش کیا جائے گا۔
دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اردن کے بادشاہ کا یہ دورہ پاکستاناردن تعلقات کی اسٹریٹجک سمت کو مزید مستحکم کرے گا اور دوطرفہ تعاون کے حجم کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق اکتوبر کے آخر میں آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اردن کے سرکاری دورے کے دوران شاہ عبداللہ دوم سے ہونے والی ملاقات میں علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاک فوج کے کردار کو سراہا گیا تھا۔ ملاقات میں اردن کے ولی عہد حسین بن عبداللہ دوم بھی شریک تھے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ شاہ عبداللہ نے دفاعی تعاون کو مزید بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا، جب کہ آرمی چیف نے پاکستان کی عوام، حکومت اور فوج کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔







