غیر ملکی میڈیا کے مطابق جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے اور حتمی معاہدے کی بنیاد رکھ دی گئی ہے، تاہم ابھی کئی اہم مراحل طے ہونا باقی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے معاملے پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے، جب کہ ایرانی ایٹمی پروگرام کو بند کرنے سے متعلق بھی پیش رفت ہوئی ہے۔

جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ لبنان سے ہونے والے ڈرون حملوں کے جواب میں کارروائیاں کی جاتی ہیں، اس لیے ایران کو چاہیے کہ وہ حزب اللہ پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے اور انہیں ایسی کارروائیوں سے روکے۔

امریکی نائب صدر نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ضرورت پڑنے پر ریکارڈ درست کرنے کے لیے بیانات جاری کریں گے، جبکہ وہ خود بھی اس حوالے سے بیان دے سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا نے ایران کو خام تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کے لیے عارضی اجازت دے دی ہے۔

امریکی وزیر خزانہ کے مطابق ایران کے لیے 60 روزہ جنرل لائسنس جاری کیا گیا ہے، جس کے تحت اسے محدود مدت کے لیے خام تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت حاصل ہوگی۔

امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ اہم سفارتی کامیابیوں کے ذریعے دنیا کو مزید محفوظ اور خوشحال بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی، جب کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت یقینی بنانے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔