ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب دیر گئے مذاکراتی سیشن کے بعد اسلام آباد میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ اس عمل میں ’ایک اچھی اور ایک بری خبر‘ ہے۔ ان کے مطابق اچھی بات یہ ہے کہ ایرانی وفد کے ساتھ ٹھوس اور سنجیدہ بات چیت ہوئی، تاہم بری خبر یہ ہے کہ دونوں فریق کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال ایران کے لیے زیادہ نقصان دہ ہو سکتی ہے، جبکہ امریکا نے مذاکرات میں نیک نیتی کے ساتھ شرکت کی اور اپنی شرائط واضح طور پر پیش کیں، جنہیں ایران نے قبول نہیں کیا۔ ان کے مطابق ایرانی وفد کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے کوئی واضح اور مثبت یقین دہانی سامنے نہیں آئی، جو امریکا کے لیے ایک بنیادی مطالبہ ہے۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مسلسل رابطے میں رہے اور متعدد بار ان سے مشاورت کی۔ انہوں نے اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ بھی ادا کیا۔
یہ مذاکرات 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد ایک دہائی سے زائد عرصے میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان ایک اہم براہ راست رابطہ سمجھے جا رہے تھے۔ اس دوران آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملات بھی زیر بحث آئے، جسے حالیہ کشیدگی کے دوران ایران نے بند کر دیا تھا، جس کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں پر بھی دیکھے گئے۔
دوسری جانب ایرانی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ بات چیت کا موجودہ دور ختم ہو گیا ہے اور دونوں فریقین کے تکنیکی ماہرین کے درمیان دستاویزات کا تبادلہ جاری رہے گا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اختلافات کے باوجود مذاکرات کا عمل جاری رکھا جائے گا، تاہم آئندہ دور کے وقت کا اعلان نہیں کیا گیا۔
بعد ازاں ایران کی وزارت خارجہ نے اپنے ردعمل میں امریکا پر زور دیا کہ وہ ’حد سے زیادہ مطالبات‘ اور ’غیر قانونی شرائط‘ سے گریز کرے اگر وہ اس سفارتی عمل کو کامیاب بنانا چاہتا ہے۔ ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق مذاکرات کی کامیابی کا انحصار مخالف فریق کی سنجیدگی، نیک نیتی اور ایران کے جائز حقوق کو تسلیم کرنے پر ہے۔
ان کے مطابق مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز، ایران کا جوہری پروگرام، جنگ کے نقصانات کا ازالہ، پابندیوں کا خاتمہ اور ایران کے خلاف کارروائیوں کے خاتمے سمیت مختلف اسٹریٹیجک امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔







