وزرائے خارجہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ فلسطینیوں کو ان کی زمین سے بے دخل کرنے کی کسی بھی کوشش کو قطعاً قبول نہیں کیا جائے گا۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ منصوبے پر مکمل عمل درآمد کیا جائے، جس کے مطابق رفح کراسنگ دونوں اطراف سے کھلی رہنی چاہیے، آبادی کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنایا جائے اور کسی بھی فلسطینی کو غزہ چھوڑنے پر مجبور نہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کے عوام کے لیے ضروری ہے کہ انہیں اپنی زمین پر رہنے اور اپنے مستقبل کی تعمیر میں حصہ لینے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔
بیان میں وزرائے خارجہ نے خطے میں امن کے قیام کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ ٹرمپ پلان پر بروقت اور مکمل عمل درآمد خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
🔊PR No.3️⃣6️⃣7️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣5️⃣
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) December 5, 2025
Joint Statement by the Foreign Ministers of Pakistan, Egypt, Jordan, United Arab Emirates, Indonesia, Turkiye, Saudi Arabia and Qatar https://t.co/9QWo9y1EEM
🔗⬇️ pic.twitter.com/IJh2FTHcDf
وزرائے خارجہ نے جنگ بندی کے تسلسل، شہریوں کی تکالیف میں کمی، غزہ میں بلا رکاوٹ انسانی امداد کی ترسیل، ابتدائی بحالی و تعمیر نو کے آغاز اور غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کی ذمہ داریوں کی بحالی کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا۔
مزید برآں وزرائے خارجہ نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی کہ ان کے ممالک امریکا سمیت تمام علاقائی و عالمی فریقین کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے، تاکہ اقوام متحدہ کی قرارداد 2803 سمیت تمام متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر مکمل عمل درآمد ممکن بنایا جا سکے اور خطے میں منصفانہ، جامع اور پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔
انہوں نے دو ریاستی حل کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ 4 جون 1967ء کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، جس میں غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم شامل ہوں، خطے میں حقیقی امن کا واحد راستہ ہے۔







