غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق اسپین کی وزارتِ خارجہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ تل ابیب میں اسپین کا سفارت خانہ اب ناظم الامور کی سربراہی میں کام کرے گا۔
اسپین نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات 1986 میں قائم کیے تھے، تاہم دونوں ممالک کے تعلقات میں ہمیشہ کشیدگی پائی جاتی رہی ہے۔ اسپین نے غزہ میں ہونے والی جنگ اور ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کی بھی شدید مخالفت کی تھی۔
The Spanish government has permanently withdrawn its ambassador to Israel
— The National (@TheNationalNews) March 11, 2026
Follow our live coverage: https://t.co/TvTQtfjP8Z pic.twitter.com/QsG0WGxpGk
گزشتہ روز اسپین کے وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی ممکنہ کارروائیوں کی مخالفت کے باوجود اسپین اور امریکا کے تعلقات معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔
اسپین کے وزیراعظم یدرو سانچیز کی حکومت نے گزشتہ ہفتے ایران کے خلاف جنگ کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور امریکی طیاروں کو جنوبی اسپین میں واقع مشترکہ فوجی اڈوں سے ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے سے روک دیا تھا۔






