ذرائع کے مطابق مجوزہ ماڈل کے تحت ایلون مسک کو کمپنی پر غیر معمولی کنٹرول حاصل ہوگا، جس میں سپر ووٹنگ شیئرز، سخت آرٹیبٹریشن (ثالثی) پالیسیوں اور شیئر ہولڈرز کے حقوق پر محدود اختیارات شامل ہیں۔ اس ڈھانچے کا مقصد کمپنی کے بانی کو فیصلہ سازی میں مضبوط حیثیت دینا ہے۔
کمپنی کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ نظام طویل المدتی منصوبہ بندی، تیز رفتار جدت اور بلند سطح کے ٹیکنالوجی منصوبوں کے تسلسل کے لیے ضروری ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اسپیس ایکس خلائی تحقیق، سیٹلائٹ نیٹ ورکس اور عالمی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
🇺🇸 SpaceX is going public, and based on all his previous experiences of activist lawfare, Elon s structured it so no one can interfere with his mission of making humanity multiplanetary.
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) May 7, 2026
Supervoting shares, mandatory arbitration, no class action lawsuits, and incorporation in… https://t.co/md5uz0uEop pic.twitter.com/0eGS4q0tM4
دوسری جانب سرمایہ کاروں اور کارپوریٹ گورننس کے ماہرین کی جانب سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اس طرح کا ڈھانچہ شیئر ہولڈرز کے حقوق کو محدود کر سکتا ہے اور کمپنی کی شفافیت اور جوابدہی پر اثر ڈال سکتا ہے۔
ان کے مطابق جب کسی کمپنی میں فیصلہ سازی کا اختیار ایک فرد کے پاس زیادہ مرکوز ہو جائے تو اس سے سرمایہ کاروں کے تحفظ کے حوالے سے سوالات جنم لیتے ہیں۔
اس کے باوجود اسپیس ایکس میں سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ کمپنی صرف ایک تجارتی ادارہ نہیں بلکہ خلائی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور مستقبل کی عالمی ٹیکنالوجی قیادت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ اسپیس ایکس کا ممکنہ آئی پی او نہ صرف ٹیکنالوجی انڈسٹری بلکہ عالمی اسٹاک مارکیٹ کے ڈھانچے کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
اب یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ کیا مستقبل میں دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی اسی طرز کے “فاؤنڈر کنٹرول ماڈل” کو اپنائیں گی یا روایتی سرمایہ کار حقوق کے نظام کو برقرار رکھا جائے گا۔







