معاہدے کے تحت اسرائیل مرحلہ وار اپنی افواج غزہ سے واپس بلائے گا، جب کہ حماس اپنے قبضے میں موجود تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے گی۔ بدلے میں اسرائیل سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کو آزاد کرے گا۔

عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس معاہدے کے بعد غزہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ خان یونس کے شہری عبدالمجید عبد ربو کا عالمی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ الحمد للہ، خون خرابے اور تباہی کا سلسلہ ختم ہونے جا رہا ہے۔ پورا غزہ، پورا عرب عالم اور دنیا اس امن معاہدے پر خوش ہے۔

اسی طرح تل ابیب کے ہوسٹیجز اسکوائر میں بھی جشن کا سماں ہے، جہاں یرغمال بنائے گئے اسرائیلی شہریوں کے اہل خانہ دو سال سے اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر تھے۔ ایک اسرائیلی خاتون عیناو زاؤگا کر نے کہاہے کہ میں خوشی سے سانس نہیں لے پا رہی، یہ احساس ناقابلِ بیان ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق جنگ بندی کا اطلاق کابینہ کی منظوری کے 24 گھنٹوں کے اندر ہوگا، جس کے بعد 72 گھنٹوں میں تمام یرغمالیوں کو رہا کیا جائے گا۔

غزہ کے وزارتِ صحت کے مطابق معاہدہ طے ہونے کے باوجود گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی بمباری سے مزید 9 فلسطینی جاں بحق ہوئے، تاہم یہ تعداد حالیہ ہفتوں کی شدید کارروائیوں کے مقابلے میں خاصی کم ہے۔

مزید پڑھیں: حماس رہنما اسامہ حمدان امن معاہدے کی تفصیلات سامنے لے آئے، کن شرائط پر امن قائم ہوا؟

ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے کے معمار قرار دیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس پیشرفت کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کی جانب پہلا بڑا قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دن عرب و مسلم دنیا، اسرائیل، تمام ہمسایہ ممالک اور امریکا کے لیے عظیم دن ہے۔ ہم قطر، مصر اور ترکی کے ثالثی کردار کے شکر گزار ہیں۔


اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اس معاہدے کو اسرائیل کی سفارتی اور اخلاقی کامیابی قرار دیا، مگر ان کی کابینہ میں شامل انتہا پسند وزراء نے مخالفت کا عندیہ دیا ہے۔ وزیر خزانہ بیزالیل سموترچ نے کہا کہ یرغمالیوں کی واپسی کے بعد حماس کا خاتمہ ضروری ہے۔

دوسری جانب پیرس میں عرب اور مغربی ممالک کے نمائندے غزہ میں امن فوج اور تعمیرِ نو کے منصوبوں پر غور کے لیے جمع ہیں۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2023 میں حماس کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی اس جنگ میں اب تک 67 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں، جب کہ اسرائیل کے مطابق ابتدائی حملے میں 1,200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔