اسرائیلی فوج کے مطابق مغربی اور وسطی ایران میں متعدد فوجی اہداف پر حملے کیے گئے۔ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی اور خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق تہران، اصفہان اور تبریز میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
ارنا کے مطابق تہران میں مقامی وقت کے مطابق صبح 4 بج کر 43 اور 45 منٹ پر دو زوردار دھماکے ہوئے، تاہم تہران فائر بریگیڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور امدادی ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ اسرائیل نے ایرانی سرزمین پر فضائی طور پر داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے حملے کیے۔
آئی آر جی سی نے بعد ازاں جوابی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے نیواتیم اور تل نوف فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ حملے ایران کے مختلف علاقوں میں ریڈار تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں کیے گئے۔
اسرائیلی فوج نے بھی تصدیق کی کہ ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کا پتہ چلایا گیا، جس کے بعد دفاعی نظام فعال کر دیے گئے۔ متعدد علاقوں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے جب کہ شہریوں کو حفاظتی پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت جاری کی گئی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق وسطی اسرائیل، گش دان اور یروشلم سمیت مختلف علاقوں میں سائرن بجنے کے بعد فضائی حدود کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔ بعد ازاں اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ فوری خطرہ ٹلنے کے بعد شہری پناہ گاہوں سے باہر آ سکتے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فضائیہ نے جنوب مغربی ایران کے شہر ماہشہر میں واقع پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر بھی حملے کی تصدیق کی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق حملے سے تنصیب کو نقصان پہنچا، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
ایران کے صوبہ مشرقی آذربائیجان میں قائم بحران مینجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ کے مطابق تبریز میں ایک فوجی مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اصفہان صوبے کے نائب سکیورٹی افسر کے مطابق نجف آباد میں ہونے والے اسرائیلی حملے میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ادھر ایران کے ہلالِ احمر نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں اس کے امدادی، طبی اور لاجسٹک یونٹس ہائی الرٹ پر ہیں۔ ادارے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ابتدائی طبی امداد کا سامان تیار رکھیں اور متاثرہ مقامات سے کم از کم 100 میٹر دور رہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ چیف آف اسٹاف میجر جنرل ایال ضمیر اور دیگر اعلیٰ فوجی حکام مسلسل صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور ایران کے خلاف جاری کارروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔
دریں اثنا، اسرائیل نے یمن سے اپنی جانب داغے گئے ایک میزائل کی بھی تصدیق کی ہے۔ بعد میں یمن کے حوثی باغیوں نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مقبوضہ یافا کے علاقے میں حساس اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
Missile trails were seen across the skies of Isfahan, Najafabad and Kermanshah in videos obtained by Iran International on Monday, as the Islamic Republic launched a fresh salvo toward Israel following an overnight exchange of Iranian missile strikes and Israeli retaliation. pic.twitter.com/phGHIBI5uD
— Iran International English (@IranIntl_En) June 8, 2026
حوثی گروپ نے بحیرہ احمر میں اسرائیلی جہاز رانی پر مکمل پابندی کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا کہ کسی بھی مزید کشیدگی کا جواب مزید شدت سے دیا جائے گا۔ گروپ کا کہنا تھا کہ وہ فلسطین، غزہ، ایران، لبنان اور عراق کے عوام کے خلاف جاری کارروائیوں پر خاموش نہیں رہے گا۔
دوسری جانب امریکا میں اسرائیل کے سفیر یخئیل لیٹر نے ایران پر حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی خوددار ملک اپنے خلاف میزائل حملوں کو برداشت نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حملے صرف میزائل لانچنگ سائٹس اور غیر توانائی انفراسٹرکچر تک محدود ہیں۔
انہوں نے لبنان میں حزب اللہ کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حزب اللہ نے اسرائیل پر حملے کیے تو بیروت کے جنوبی علاقے الضاحیہ میں اس کے کمانڈ سینٹرز کو سخت نشانہ بنایا جائے گا۔
خیال رہے کہ خطے میں جاری اس تازہ کشیدگی نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کو ایک وسیع تر جنگ کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے، جب کہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔






