قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بدھ کو اعلیٰ حکام سے ملاقات کے دوران الجزیرہ عربی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں لاریجانی نے کہا کہ اسرائیل مذاکرات کو ناکام بنانے کے لیے بہانے تراش رہا ہے، کیونکہ مذاکرات ایک حساس مرحلے میں ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہمارے مذاکرات مکمل طور پر امریکا کے ساتھ ہیں، ہم اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت میں ملوث نہیں ہیں۔ تاہم، اسرائیل اس عمل میں خود کو شامل کر رہا ہے اور اس کا مقصد مذاکرات کو سبوتاژ کرنا اور نقصان پہنچانا ہے۔
لاریجانی نے کہا کہ اسرائیل کی حکمت عملی خطے کو غیر مستحکم کرنا ہے اور اس کا ایجنڈا ایران کے بارے میں مبینہ تشویش سے کہیں آگے بڑھ کر ہے، جس کی مثال ستمبر میں اسرائیل کے قطر کی راجدھانی پر حملے میں ظاہر ہوئی، جس میں حماس کے عہدیداران کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ نہ صرف ایران بلکہ قطر، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ بھی کھیل رہے ہیں اور علاقائی رہنماؤں سے کہا کہ اس معاملے میں ہوشیار رہیں۔
جون میں ایران پر اسرائیل کے حملے کے دوران تہران اور واشنگٹن مذاکرات میں مصروف تھے، جس نے کئی راؤنڈز کے بعد مذاکرات کو مؤثر طور پر ناکام بنا دیا۔ ایران اور امریکا نے جمعہ کو عمان کے مسقط میں ایٹمی تنازع کے حل کے لیے بالواسطہ مذاکرات کیے۔
دورانِ مذاکرات امریکی فوجی تعیناتیاں اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پر ممکنہ حملے کی دھمکیاں بھی موجود تھیں۔ لاریجانی نے کہا کہ مذاکرات کے اگلے مرحلے کی تاریخ زیر غور ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو بدھ کو واشنگٹن گئے اور ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات کی، جس میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے اصول پیش کیے۔
ملاقات کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، صرف یہ کہ میں نے مذاکرات جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ دیکھا جا سکے کہ کیا کوئی معاہدہ ممکن ہے۔
لاریجانی نے الجزیرہ کو بتایا کہ تہران نے ابھی تک واشنگٹن کی جانب سے کوئی واضح پیشکش وصول نہیں کی اور مسقط میں ہونے والے مذاکرات بنیادی طور پر پیغامات کے تبادلے تک محدود تھے۔
انہوں نے کہا کہ تہران مذاکرات کے لیے مثبت رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور واشنگٹن نے بھی محسوس کیا ہے کہ مذاکرات ہی ترجیح ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان مشترکہ زمین یہ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں رکھے گا اور تہران اس پر زور دیتا ہے کہ وہ اسے حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان خطے میں اہم شراکت دار ہے، تجارت اور سیکیورٹی تعاون بڑھا رہے ہیں، امریکا
لاریجانی نے واضح کیا کہ مذاکرات صرف ایران کے ایٹمی پروگرام تک محدود ہوں گے اور ایران کے میزائل پروگرام پر بات چیت نہیں ہوگی، جو امریکا اور اسرائیل کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے مذاکرات کی میز پر ایک واضح حد مقرر کی ہے، ہماری بات چیت صرف ایٹمی مسئلے تک محدود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا میزائل پروگرام ایٹمی پروگرام سے بالکل الگ ہے۔ یہ بنیادی طور پر قومی سلامتی سے متعلق ہے اور مذاکرات کا حصہ نہیں بن سکتا۔
اسی طرح ایران کے یورینیم کی افزودگی کو صفر کرنے کا مطالبہ بھی میز پر نہیں ہے کیونکہ یہ عملی طور پر ناممکن ہے اور اس ٹیکنالوجی کا استعمال پرامن شہری مقاصد جیسے کینسر کے علاج میں ضروری ہے۔
لاریجانی نے خبردار کیا کہ اگر امریکا ایران پر حملہ کرتا ہے، جیسا کہ جون میں ایٹمی تنصیبات پر حملوں میں ہوا، تو تہران خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر جوابی کارروائی کرے گا۔
دوحہ میں علی لاریجانی نے حماس کے قیادت کونسل کے سربراہ محمد درویش سے بھی ملاقات کی اور فلسطینی تنظیم کے اعلیٰ وفد کے ساتھ حالیہ سیاسی حالات اور اسرائیل کے غزہ پر جنگی اقدامات پر بات چیت کی۔







