اسرائیلی حکام کے مطابق عزالدین الحداد کو حماس کے عسکری ونگ کا سربراہ اور 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے اہم منصوبہ سازوں میں شمار کیا جاتا ہے، جب کہ وہ اسرائیل کو مطلوب ترین افراد کی فہرست میں بھی شامل تھے۔
عرب میڈیا کے مطابق تاحال حماس کی جانب سے اس حوالے سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایک سینیئر اسرائیلی سکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق غزہ سٹی میں حالیہ فضائی حملے میں عزالدین الحداد کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم اسرائیلی فوج کی جانب سے اس کی باضابطہ تصدیق ابھی تک نہیں کی گئی۔
Netanyahu says the IDF targeted Izz ad-Din al-Haddad in Gaza, Hamas’s military chief. pic.twitter.com/A1n8LHINcw
— Clash Report (@clashreport) May 15, 2026
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انہوں نے فوج کو عزالدین الحداد کو ہدف بنانے کا حکم دیا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ عزالدین الحداد ہزاروں اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کی ہلاکت، اغوا اور حملوں کے ذمہ دار تھے۔ ان پر یرغمالیوں کو حراست میں رکھنے اور اسرائیلی افواج کے خلاف کارروائیوں کی قیادت کرنے کا بھی الزام عائد کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ تمام دشمنوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ اسرائیل جلد یا بدیر تم تک پہنچ جائے گا۔






