امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق جنرل گرنکیوچ نے اعلیٰ امریکی دفاعی حکام کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ اگر امریکی بحریہ کا ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز فراہم نہ کیا گیا تو وہ اسرائیل کے بجائے امریکی سرزمین کے دفاع کو ترجیح دینے پر مجبور ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ پانچ ماہ سے جاری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر رہی ہے۔ امن معاہدے کی معطلی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں امریکی فضائی دفاعی نظام اور میزائل ذخائر پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔

امریکی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ فوجی کمانڈرز کی جانب سے وسائل کی کمی سے متعلق اس نوعیت کی تحریری وارننگ غیر معمولی نہیں ہوتی، تاہم اس کا مقصد پالیسی سازوں کو ممکنہ خطرات سے بروقت آگاہ کرنا ہوتا ہے تاکہ ضرورت کے مطابق فوجی وسائل فراہم کیے جا سکیں۔

امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جنگی جہاز گزشتہ کئی برسوں سے مشرقی بحیرۂ روم میں اسرائیل کے دفاعی نظام کا اہم حصہ رہے ہیں۔ جدید ریڈار اور میزائل دفاعی نظام سے لیس یہ جہاز نہ صرف ایران بلکہ ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو بھی فضا میں تباہ کرتے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے جواب میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے فیصلے نے بھی امریکی بحریہ پر اضافی بوجھ ڈال دیا ہے، جس کے باعث مختلف محاذوں پر وسائل کی تقسیم مزید مشکل ہو گئی ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے مطابق اسپین کے شہر روٹا میں امریکی بحریہ کے پانچ میزائل شکن جنگی جہاز تعینات ہیں، جب کہ چھٹا جہاز بھی رواں سال وہاں پہنچنے والا ہے۔ تاہم ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے باعث ان جہازوں کی مرمت اور دیکھ بھال میں تاخیر ہو رہی ہے، جس سے ان کی دستیابی متاثر ہوئی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق اس وقت مشرقی بحیرۂ روم میں یو ایس ایس پال اگنیشس اور یو ایس ایس روزویلٹ تعینات ہیں، جب کہ یو ایس ایس آرلی برک، یو ایس ایس بلکلی اور یو ایس ایس آسکر آسٹن روٹا میں موجود ہیں۔

دوسری جانب بحیرۂ عرب میں یو ایس ایس جارج ڈبلیو بش اور یو ایس ایس ابراہم لنکن سمیت متعدد امریکی جنگی جہاز آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے تحفظ اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے مشن پر مامور ہیں، جبکہ یو ایس ایس گونزالیز بحیرۂ احمر میں تعینات ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل بنانے کی اجازت نہیں دی: فنانشل ٹائمز

دریں اثنا، وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کی منظوری دے دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل ایران کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں اور ممکنہ حملے ہفتے کے اختتام تک کسی بھی وقت کیے جا سکتے ہیں۔

ادھر ایران نے ان رپورٹس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس کی توانائی تنصیبات یا دیگر بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

امریکا میں ایران کے خلاف جاری جنگ پر عوامی اور سیاسی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔ کانگریس میں دونوں بڑی جماعتوں کے متعدد ارکان ٹرمپ انتظامیہ پر تنقید کر رہے ہیں کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے واضح حکمت عملی پیش کرنے میں ناکام رہی ہے، جب کہ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو امریکا کو مشرق وسطیٰ میں اپنے فوجی وسائل مزید تقسیم کرنا پڑ سکتے ہیں۔