مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کو مغربی کنارے کو ضم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور اس سلسلے میں اب حد پوری ہو چکی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل کے بعض انتہا پسند سیاست دانوں کی جانب سے اس علاقے پر مکمل اسرائیلی خودمختاری قائم کرنے کی خواہشات کو تسلیم نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ فلسطینی ریاست کے قیام کی امیدوں کو ختم کرنے کے مترادف ہوگا۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ “میں اسرائیل کو مغربی کنارے کو ضم کرنے کی اجازت نہیں دوں گا، بالکل نہیں، یہ نہیں ہوگا، اب بہت ہو گیا ہے، اب اسے رکنا ہوگا۔”
ان کا کہنا تھا کہ خواہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے اس معاملے پر بات کی ہو یا نہیں، وہ اس منصوبے کو آگے بڑھنے نہیں دیں گے۔
ٹرمپ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ وہ اسرائیل کو اس اقدام سے روکنے کے لیے کیا عملی اقدامات کریں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی غیر متوقع طرزِ عمل کے باعث ان کے مؤقف میں تبدیلی کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
ٹرمپ کے اس اعلان سے چند روز قبل فرانس، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور پرتگال فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں تاکہ دو ریاستی حل کے امکان کو برقرار رکھا جا سکے۔ اسرائیل نے ان فیصلوں کی شدید مذمت کی ہے۔
ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیتن یاہو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے لیے نیویارک پہنچے ہیں۔ ان کے دفتر کے مطابق وہ وطن واپسی پر ہی اس معاملے پر تبصرہ کریں گے۔
خیال رہے کہ 1967 کی جنگ کے بعد اسرائیل نے مغربی کنارے پر قبضہ کیا اور اس کے بعد سے وہاں یہودی آبادیاں تیزی سے پھیلتی جا رہی ہیں۔
یہ آبادیاں اسرائیلی سڑکوں اور ڈھانچے سے جڑ کر مغربی کنارے کو تقسیم کر رہی ہیں۔ ای ون پروجیکٹ، جسے اگست میں حتمی منظوری دی گئی، علاقے کو مشرقی بیت المقدس سے الگ کرنے کی راہ ہموار کرے گا۔ فلسطینی اسی علاقے کو اپنی مستقبل کی ریاست کے لیے چاہتے ہیں۔
اسرائیل کے وزیر خزانہ اور دائیں بازو کے رہنما بیزلیل سموتریچ نے حال ہی میں کہا تھا کہ فلسطینی ریاست “مذاکرات کی میز سے مٹا دی گئی ہے”۔
اس بیان کے بعد عرب اور مسلم ممالک نے ٹرمپ کو خبردار کیا کہ مغربی کنارے کا کوئی بھی انضمام سنگین نتائج کا باعث ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ امریکی صدر اس پیغام کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
اس وقت مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں تقریباً 7 لاکھ اسرائیلی آبادکار 27 لاکھ فلسطینیوں کے درمیان رہتے ہیں۔
اسرائیل نے مشرقی بیت المقدس کو ضم کر رکھا ہے جسے عالمی برادری تسلیم نہیں کرتی۔ دنیا کی اکثریت اسرائیلی آبادکاری کو غیر قانونی قرار دیتی ہے، لیکن اسرائیل اسے اپنے تاریخی، مذہبی اور سکیورٹی دلائل کی بنیاد پر درست قرار دیتا ہے۔







