عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق خون میں لت پت پٹیاں لپیٹے علین سعید گزشتہ ہفتے جنوبی لبنان کے علاقے میں اپنے گھر پر ہونے والے اسرائیلی حملے میں شدید زخمی ہونے کے باوجود زندہ بچ گئی تھی۔ وہ اپنے والد کی تدفین کے لیے وہاں موجود تھی، تاہم اسی دوران ہونے والے ایک نئے حملے میں اس کی کمسن بہن سمیت متعدد رشتہ دار جان کی بازی ہار گئے۔

خبررساں ادارے کے مطابق سریفا گاؤں میں سعید خاندان کے گھر پر یہ حملہ بدھ کے روز ہوا، جو امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے پہلے دن تھا۔ لبنان میں کئی افراد کو توقع تھی کہ اس کا اطلاق ان کے ملک پر بھی ہوگا، تاہم اس کے برعکس اسرائیلی حملوں میں پورے ملک میں 350 سے زائد افراد شہید ہو گئے۔

رپورٹ کے مطابق علین کے 64 سالہ دادا ناصر سعید، جو اس حملے میں محفوظ رہے انہوں نے  بتایا کہ ہمیں کہا گیا تھا کہ جنگ بندی ہو گئی ہے، ہم نماز اور تدفین کے لیے گاؤں گئے تھے، مگر اچانک ایسا لگا جیسے ہم پر طوفان آ گیا ہو۔

اتوار کے روز وہ جنوبی بندرگاہی شہر ٹائر میں دیگر رشتہ داروں کے ساتھ لاشیں وصول کرنے گئے، جہاں ایک چھوٹے کفن میں ان کی پوتی ٹیلین کی میت بھی موجود تھی، جو علین کی بہن تھی۔ ٹیلین کی عمر دو سال سے بھی کم تھی۔

زخمی علین سر اور دائیں ہاتھ پر پٹیوں کے ساتھ خاموشی سے سوگوار بیٹھی رہی، جب کہ اردگرد خواتین چیخ و پکار کرتی رہیں۔

دوسری جانب سرائیلی فواج نے کہا ہے کہ انہیں اس واقعے کی مکمل تفصیلات حاصل نہیں، تاہم ان کا مؤقف ہے کہ وہ حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں میں عام شہریوں کے نقصان کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔

واضح رہے کہ لبنان میں حالیہ جنگ دو مارچ کو اس وقت شروع ہوئی جب حزب اللہ نے ایران کی حمایت میں اسرائیلی ٹھکانوں پر فائرنگ کی۔ اس کے بعد اسرائیل نے لبنان میں فضائی اور زمینی کارروائیاں تیز کر دیں، جن میں اب تک دو ہزار سے زائد افراد جاں شہید ہو چکے ہیں، جن میں 165 بچے اور تقریباً 250 خواتین شامل ہیں۔

ادھر پوپ لیو نے اتوار کو کہا کہ وہ لبنانی عوام کے ساتھ گہری ہمدردی رکھتے ہیں اور جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ سینٹ پیٹرز اسکوائر میں اپنے ہفتہ وار خطاب میں انہوں نے کہا کہ شہری آبادی کو جنگ کے ہولناک اثرات سے بچانا ایک اخلاقی ذمہ داری ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ بدھ کا دن لبنان کی حالیہ تاریخ کے مہلک ترین دنوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ ناصر سعید نے اسپتال میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ انسانیت نہیں، یہ ایک جنگی جرم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل میں کوئی بچہ زخمی ہو جائے تو پوری دنیا ردعمل دیتی ہے، لیکن فلسطینی اور لبنانی بچوں کے لیے کوئی آواز نہیں اٹھتی۔

ٹیلین کے نانا محمد نزال نے کہا کہ وہ جنگ میں پیدا ہوئی اور جنگ میں ہی مر گئی۔