صدر حسن شیخ محمود نے اتوار کو پارلیمنٹ کے ہنگامی مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے صومالیہ کی تاریخ میں خودمختاری کی سب سے بڑی خلاف ورزی کی ہے اور اسرائیل کو صومالیہ کا ’دشمن‘ قرار دیا۔
صدر حسن شیخ محمود نے کہا کہ وہ صومالی عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پُرامن رہیں اور اپنے ملک کی وحدت اور آزادی کا دفاع کریں جو اس وقت ایک کھلی جارحیت کا سامنا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ کے تنازعات کو صومالیہ میں منتقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور صومالیہ اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف فوجی اڈے کے طور پر استعمال نہیں ہونے دے گا۔
پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی جس میں اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے فیصلے کو ’’کالعدم‘‘ قرار دیا گیا۔ قرارداد میں خبردار کیا گیا کہ صومالیہ کی خودمختاری کی خلاف ورزی کرنے والے افراد یا اداروں کے خلاف ملکی فوجداری قانون اور بین الاقوامی قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
حکومت کو ہدایت کی گئی کہ اس معاملے کو اقوام متحدہ، افریقی یونین، عرب لیگ اور دیگر علاقائی تنظیموں میں اٹھایا جائے۔
واضح رہے کہ صومالی لینڈ نے 1991 میں صومالیہ سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا، تاہم صومالیہ نے آج تک اس علیحدگی کو تسلیم نہیں کیا اور بین الاقوامی سطح پر بھی صومالی لینڈ کو اب تک تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے جمعے کے روز اعلان کیا تھا کہ اسرائیل نے صومالی لینڈ کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات قائم کرلیے ہیں اور یہ اقدام امریکی ثالثی میں ہونے والے ابراہیم معاہدوں کی روح کے مطابق ہے۔ اس اعلان کے بعد اسرائیل اقوام متحدہ کا پہلا رکن ملک بن گیا جس نے صومالی لینڈ کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا۔
صدر حسن شیخ محمود نے صومالی عوام پر زور دیا کہ وہ قبائلی اور علاقائی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملک کی وحدت کو درپیش ’’وجودی خطرے‘‘ کے خلاف متحد ہوں۔ انہوں نے صومالی لینڈ کی قیادت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ صومالیہ کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے بامعنی مذاکرات کرے۔
ادھر صومالی وزیراعظم حمزہ بارے نے الجزیرہ عربی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل افریقہ کے ہارن خطے میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہا ہے اور اسے چاہیے کہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے بجائے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے۔
دوسری جانب صومالی لینڈ کے صدر عبدالرحمن محمد عبداللہی المعروف ’’سیرو‘‘ نے اسرائیلی فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا کسی پڑوسی ملک کے لیے خطرہ یا دشمنی کا اقدام نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صومالی لینڈ اعتدال، انصاف اور بقائے باہمی کی اسلامی اقدار پر یقین رکھتا ہے اور کسی اسلامی ملک یا قوم کے خلاف کسی اتحاد کا حصہ نہیں ہے۔
اسرائیلی فیصلے پر عالمی سطح پر بھی شدید ردعمل سامنے آیا۔ ہفتے کے روز 21 عرب اور افریقی ممالک اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے مشترکہ بیان میں اس اقدام کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ فلسطینی وزارت خارجہ نے بھی صومالیہ کی حمایت کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیں: صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے، او آئی سی ممالک
علاقائی رہنماؤں جن میں کینیا، یوگنڈا، تنزانیہ اور جبوتی کے صدور شامل ہیں، نے صدر حسن شیخ محمود سے رابطہ کر کے صومالیہ کی علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔ اریٹیریا نے چین سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر سلامتی کونسل میں کردار ادا کرے۔ یورپی یونین نے صومالیہ کی خودمختاری کے احترام پر زور دیا تاہم اسرائیلی اقدام کی براہ راست مذمت سے گریز کیا اور موغادیشو اور ہرگیسا کے درمیان مذاکرات کی اپیل کی۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے توقع ہے کہ وہ پیر کے روز اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے معاملے پر غور کرے گی۔







