غیرملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی تنظیم پیس ناؤ کا کہنا تھا کہ شمالی مشرقی یروشلم میں مجوزہ ’اتاروت‘ نامی اس منصوبے پر بدھ کے روز ڈسٹرکٹ پلاننگ اینڈ بلڈنگ کمیٹی میں غور کیا جائے گا اور اس کے ابتدائی خدوخال کی منظوری دیے جانے کا امکان ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ رام اللہ، کفر عقب، قلندیہ مہاجر کیمپ، الرام، بیت حنینا اور بیر نبالہ سمیت گنجان آباد فلسطینی علاقوں کے درمیان ایک اسرائیلی انکلیو قائم کرے گا۔

پیس ناؤ کے مطابق یہ منصوبہ عملی طور پر مشرقی یروشلم کو اس کے گرد و نواح کے فلسطینی علاقوں سے منقطع کر دے گا اور دو ریاستی حل کے امکان کو شدید نقصان پہنچائے گا۔ اگر یہ منصوبہ نافذ ہوا تو فلسطینی ریاست کے قیام کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔

ادھر اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے کا زیادہ تر علاقہ ’اسٹیٹ لینڈ‘ قرار دیا گیا ہے، جس کے باعث فلسطینی مالکان سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ منصوبے پر ابتدائی کام 2020 میں شروع ہوا تھا تاہم ماحولیاتی اور صحت کے اداروں کے اعتراضات کے باعث اسے مؤخر کیا گیا۔

اسرائیلی حکومت کی جانب سے مغربی کنارے میں مزید غیر قانونی بستیاں بسانے کے اقدامات ایسے وقت میں تیز کیے جا رہے ہیں جب غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ حالیہ دنوں میں اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے مغربی کنارے میں 19 غیر قانونی بستیوں کو باضابطہ شکل دینے کی بھی منظوری دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کوئی مانے یا نہ مانے، سات مئی کی فضائی لڑائی میں ہمیں مکمل شکست کا سامنا کرنا پڑا، کانگریس رہنما پرتھوی راج چوہان

دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز کی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ بدھ کے روز بیت المقدس کے شمال مغرب میں واقع قصبے بدّو میں فلسطینی گھروں کو بغیر اجازت تعمیر کا جواز بنا کر مسمار کیا گیا، جب کہ رام اللہ کے قریب عین یبرود میں یہودی آبادکاروں نے فلسطینی گاڑیاں نذر آتش کر دیں اور نسل پرستانہ نعرے تحریر کیے۔

مقامی حکام کے مطابق نور شمس مہاجر کیمپ میں اس ہفتے 25 رہائشی عمارتوں کو مسمار کرنے کا بھی منصوبہ ہے، جب کہ مختلف علاقوں میں چھاپوں کے دوران متعدد فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔